پاکستان ہاکی فیڈریشن نے 2026 مینز ایشین چیمپئنز ٹرافی کے مقام سے متعلق ایشین ہاکی فیڈریشن کو باضابطہ درخواست دی ہے کہ ٹورنامنٹ کو بھارت سے کسی غیر جانبدار مقام پر منتقل کیا جائے یا کم از کم پاکستان کے تمام میچ نیوٹرل وینیو پر کرائے جائیں۔ پی ایچ ایف نے اس درخواست کی وجہ موجودہ حساس پاک بھارت صورت حال اور قومی ٹیم کے کھلاڑیوں و آفیشلز سے متعلق سکیورٹی خدشات کو قرار دیا ہے۔

پی ایچ ایف کے صدر محی الدین احمد وانی کے جاری کردہ بیان کے مطابق فیڈریشن ایک محفوظ، باوقار اور کھیل کے لیے موزوں ماحول یقینی بنانا چاہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ایشین چیمپئنز ٹرافی میں شرکت کے لیے پرعزم ہے اور تمام ایف آئی ایچ رکن ممالک، بشمول بھارت، کے خلاف کھیلنے کے لیے تیار ہے۔ ان کے مطابق فیڈریشن کھیل کو سیاسی اختلافات سے الگ رکھنے کے اصول کی حمایت کرتی ہے۔

پاکستان کی درخواست ابھی ایک تجویز ہے اور دستیاب معلومات میں ایشین ہاکی فیڈریشن کی جانب سے مقام کی تبدیلی یا پاکستان کے میچ منتقل کرنے کا حتمی فیصلہ سامنے نہیں آیا۔ اس لیے ٹورنامنٹ کے شیڈول اور وینیو میں کسی تبدیلی کو اس وقت تک حتمی نہیں سمجھا جا سکتا جب تک متعلقہ ایشیائی ادارہ باقاعدہ اعلان نہ کرے۔

پی ایچ ایف نے امید ظاہر کی ہے کہ ایشین ہاکی فیڈریشن پاکستان کی مکمل اور بلا تعطل شرکت یقینی بنانے کے لیے غیر جانبدار مقام کی تجویز پر مثبت غور کرے گی۔ درخواست میں بنیادی توجہ کھلاڑیوں اور آفیشلز کی سلامتی اور ایسے ماحول پر رکھی گئی ہے جہاں ٹیم کسی اضافی سکیورٹی دباؤ کے بغیر مقابلوں میں حصہ لے سکے۔

پاکستان اور بھارت کے درمیان کھیلوں کے مقابلوں کے مقامات کا معاملہ حالیہ برسوں میں مختلف کھیلوں میں بار بار سامنے آتا رہا ہے، خصوصاً ایسے حالات میں جب دوطرفہ سیاسی یا سکیورٹی کشیدگی بڑھ جائے۔ ہاکی میں ایشین چیمپئنز ٹرافی خطے کے اہم مقابلوں میں شمار ہوتی ہے اور پاکستان کی شرکت ٹورنامنٹ کی مسابقتی اہمیت کے لیے نمایاں ہے۔

اب اگلا اہم مرحلہ ایشین ہاکی فیڈریشن کا ردعمل ہوگا۔ اگر درخواست منظور کی جاتی ہے تو منتظمین کو متبادل مقام، سفری انتظامات اور شیڈول سے متعلق تفصیلات طے کرنا ہوں گی۔ اگر ٹورنامنٹ بھارت ہی میں برقرار رہتا ہے تو پاکستان کے میچوں کے لیے علیحدہ نیوٹرل وینیو کی تجویز پر بھی فیصلہ درکار ہوگا۔ پی ایچ ایف نے فی الحال اپنی شرکت سے دستبرداری کا اعلان نہیں کیا بلکہ متبادل انتظام کی درخواست کی ہے۔