پاکستان فٹبال فیڈریشن (پی ایف ایف) نے خواتین فٹبال کی ترقی کے لیے 2026 سے 2030 تک کی نئی قومی حکمت عملی متعارف کرا دی ہے۔ ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق ’فرام پیپر ٹو پچ‘ کے عنوان سے پیش کیے گئے روڈ میپ کا مقصد گراس روٹس سطح سے قومی ٹیم تک خواتین کھلاڑیوں کے لیے زیادہ واضح راستہ بنانا اور کوچز، ریفریز اور منتظمین کے لیے پائیدار مواقع پیدا کرنا ہے۔

حکمت عملی کو پانچ بنیادی ستونوں میں تقسیم کیا گیا ہے: شرکت اور مقابلے، کھلاڑیوں کی ترقی اور ہائی پرفارمنس، تعلیم اور صلاحیت سازی، فروغ اور شمولیت، اور گورننس و قیادت۔ پی ایف ایف کا کہنا ہے کہ ان شعبوں کو ایک دوسرے سے جوڑ کر ایسا ڈھانچہ بنانے کی کوشش کی جائے گی جس میں نئی کھلاڑی کے ابتدائی تعارف سے لے کر کلب، علاقائی مقابلوں اور قومی ٹیم تک ترقی کے مراحل زیادہ منظم ہوں۔

فیڈریشن کے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق ملک میں خواتین فٹبال کے موجودہ ڈھانچے میں 62 رجسٹرڈ کلب اور اکیڈمیاں، 673 رجسٹرڈ خواتین کھلاڑی اور پانچ تصدیق شدہ خواتین ریفریز شامل ہیں۔ یہ اعداد حکمت عملی کے ابتدائی پیمانے کے طور پر پیش کیے گئے ہیں اور اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ خواتین فٹبال کا باضابطہ رجسٹرڈ ڈھانچہ ابھی محدود ہے، جسے آئندہ چار برسوں میں وسیع کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔

شرکت اور مقابلوں کے شعبے میں توجہ زیادہ لڑکیوں اور خواتین کو فٹبال تک رسائی دینے، باقاعدہ مقابلہ جاتی مواقع بڑھانے اور کلب و اکیڈمی نظام کو مضبوط کرنے پر ہے۔ کھلاڑیوں کی ترقی کے ستون میں باصلاحیت کھلاڑیوں کی شناخت، عمر کے مختلف گروپوں کے لیے تربیتی راستوں اور قومی ٹیم تک پہنچنے کے لیے ہائی پرفارمنس نظام کو بہتر بنانے کا تصور شامل ہے۔

تعلیم اور صلاحیت سازی کے تحت خواتین کوچز، ریفریز، منتظمین اور تکنیکی عملے کی تعداد اور مہارت بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔ شمولیت اور فروغ کے حصے میں فٹبال کو مختلف علاقوں اور سماجی پس منظر رکھنے والی لڑکیوں تک پہنچانے، کھیل میں خواتین کی نمائندگی بہتر کرنے اور مثبت عوامی رابطے بڑھانے کا ہدف بیان کیا گیا ہے۔ گورننس اور قیادت کے ستون میں فیصلہ سازی، منصوبہ بندی اور انتظامی کرداروں میں خواتین کی شرکت بڑھانے کو اہم قرار دیا گیا ہے۔

اسلام آباد میں اس حکمت عملی سے متعلق تقریب میں پی ایف ایف کے صدر سید محسن گیلانی نے روڈ میپ پیش کیا، جس کی موجودگی کی تصدیق ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان کی تقریب کی رپورٹنگ اور تصاویر سے بھی ہوتی ہے۔ حکمت عملی کا اعلان ایسے وقت میں ہوا ہے جب پی ایف ایف ملک میں فٹبال فار اسکولز، ضلعی مقابلوں اور نوجوان ٹیلنٹ کے مختلف پروگراموں پر بھی کام کر رہی ہے۔

نئی دستاویز ایک پالیسی اور ترقیاتی روڈ میپ ہے؛ اس کے تمام اہداف کی تکمیل ابھی مستقبل کے نفاذ، وسائل، صوبائی و علاقائی تعاون، مقابلوں کے تسلسل اور قابلِ پیمائش نتائج پر منحصر ہوگی۔ فی الحال اہم پیش رفت یہ ہے کہ پی ایف ایف نے پہلی مرتبہ 2026 سے 2030 تک خواتین فٹبال کے لیے پانچ واضح شعبوں پر مبنی جامع سمت باضابطہ طور پر سامنے رکھ دی ہے۔