دبئی/برمنگھم: انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے انگلینڈ کے خلاف ایجبسٹن میں کھیلے گئے تیسرے ٹیسٹ میں سلو اوور ریٹ پر پاکستان کے 11 آئی سی سی ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ پوائنٹس منہا کر دیے ہیں، جبکہ پاکستانی کھلاڑیوں پر میچ فیس کا 50 فیصد جرمانہ بھی عائد کیا گیا ہے۔ یہ کارروائی میچ میں دستیاب وقت کی رعایتوں کو شامل کرنے کے بعد پاکستان کے مقررہ ہدف سے 11 اوورز پیچھے رہنے پر کی گئی۔

آئی سی سی کے مطابق ایمریٹس آئی سی سی ایلیٹ پینل آف میچ ریفریز کے رنجن مدوگالے نے سزا نافذ کی۔ آن فیلڈ امپائرز پال رائفل اور کرس گیفنی، تھرڈ امپائر اللہ الدین پالیکر اور فورتھ امپائر رسل وارن نے اوور ریٹ سے متعلق چارج عائد کیا تھا۔ پاکستان کے کپتان بابر اعظم نے خلاف ورزی تسلیم کرتے ہوئے مجوزہ سزا قبول کر لی، اس لیے باقاعدہ سماعت کی ضرورت پیش نہیں آئی۔

آئی سی سی کوڈ آف کنڈکٹ کے آرٹیکل 2.22 کے تحت کم از کم اوور ریٹ کی خلاف ورزی پر ہر کم اوور کے عوض کھلاڑیوں کی میچ فیس کا پانچ فیصد جرمانہ کیا جاتا ہے، تاہم زیادہ سے زیادہ جرمانہ 50 فیصد تک محدود ہے۔ پاکستان 11 اوورز پیچھے پایا گیا، اس لیے میچ فیس کی سزا زیادہ سے زیادہ حد تک پہنچی۔

اس کے علاوہ ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کے پلیئنگ کنڈیشنز کے آرٹیکل 16.11.2 کے تحت ہر کم اوور پر ایک چیمپئن شپ پوائنٹ منہا کیا جاتا ہے۔ اسی ضابطے کے تحت پاکستان کے مجموعی پوائنٹس میں سے 11 پوائنٹس کاٹ دیے گئے۔

ایجبسٹن ٹیسٹ میں انگلینڈ نے پاکستان کو آٹھ وکٹوں سے شکست دی تھی اور تین میچوں کی سیریز 3-0 سے اپنے نام کی۔ آئی سی سی کی سزا کے بعد موجودہ ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ سائیکل میں پاکستان کی پوزیشن مزید کمزور ہوئی اور ٹیم نو میچوں کے بعد پانچ پوائنٹس کے ساتھ جدول کے آخری حصے میں برقرار رہی۔ رائٹرز کے مطابق اس مرحلے پر آسٹریلیا جدول میں سرفہرست اور دفاعی چیمپئن جنوبی افریقہ دوسرے نمبر پر ہے۔

پاکستان کے لیے یہ رواں ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ سائیکل میں اوور ریٹ سے متعلق پہلی بڑی کٹوتی نہیں۔ ڈان کے مطابق مئی میں بنگلہ دیش کے خلاف ایک ٹیسٹ میں بھی سلو اوور ریٹ پر پاکستان کے آٹھ پوائنٹس منہا کیے گئے تھے اور کھلاڑیوں پر میچ فیس کا 40 فیصد جرمانہ عائد ہوا تھا۔

آئی سی سی کی تازہ کارروائی محض مالی جرمانے تک محدود نہیں کیونکہ ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ میں پوائنٹس کی کٹوتی براہ راست ٹیم کی فائنل تک رسائی کے امکانات اور پوائنٹس فیصد پر اثر ڈالتی ہے۔ پاکستان کی اگلی ٹیسٹ مصروفیت نومبر میں سری لنکا کے خلاف دو میچوں کی ہوم سیریز ہے، جہاں ٹیم کو نتائج کے ساتھ اوور ریٹ کے ضوابط کی پابندی بھی یقینی بنانا ہوگی۔