انگلینڈ انڈر 19 کرکٹ ٹیم نے چار میچوں کی ایک روزہ سیریز کے تیسرے مقابلے میں پاکستان انڈر 19 کو انتہائی سنسنی خیز انداز میں 3 رنز سے شکست دے دی۔ 303 رنز کے ہدف کے تعاقب میں پاکستانی نوجوان ٹیم مقررہ 50 اوورز میں 9 وکٹوں کے نقصان پر 300 رنز تک پہنچ سکی۔ آخری گیند پر پاکستان کو میچ برابر کرنے کے لیے تین اور جیت کے لیے چار رنز درکار تھے، لیکن صرف ایک رن بن سکا اور میزبان ٹیم نے سیریز میں اپنی پہلی کامیابی حاصل کر لی۔
پاکستان کے تعاقب میں حمزہ نے جارحانہ بیٹنگ کرتے ہوئے 65 گیندوں پر 86 رنز بنائے۔ ان کی اننگز میں چھ چوکے اور پانچ چھکے شامل تھے۔ حسنین نے ان کا بھرپور ساتھ دیا اور 67 گیندوں پر پانچ چوکوں کی مدد سے 56 رنز کی ذمہ دارانہ اننگز کھیلی۔ دونوں بیٹرز نے 154 رنز کی اہم شراکت قائم کرکے پاکستان کو مشکل صورت حال سے نکالا اور ہدف کے قریب پہنچا دیا۔
یہ شراکت ٹوٹنے کے بعد پاکستان نے دونوں سیٹ بیٹرز کی وکٹیں نسبتاً مختصر وقفے میں گنوا دیں، جس سے آخری اوورز میں دباؤ بڑھ گیا۔ اس کے باوجود نچلے آرڈر نے میچ کو آخری گیند تک پہنچایا۔ ہدف بڑا ہونے کے باوجود پاکستان نے مطلوبہ رن ریٹ برقرار رکھنے کی کوشش کی اور 300 رنز تک رسائی حاصل کی، مگر فیصلہ کن لمحات میں چند رنز کا فرق برقرار رہا۔
انگلینڈ نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے پاکستان کو 303 رنز کا ہدف دیا تھا۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق میزبان ٹیم کے لیے یہ کامیابی سیریز میں برقرار رہنے کے لیے اہم تھی، کیونکہ پاکستان ابتدائی دونوں میچ جیت چکا تھا۔ تیسرے میچ کے نتیجے کے بعد چار میچوں کی سیریز میں پاکستان کی برتری برقرار ہے، تاہم انگلینڈ نے فرق کم کر دیا اور آخری میچ کی اہمیت بڑھ گئی ہے۔
پاکستان کے لیے حمزہ اور حسنین کی 154 رنز کی شراکت میچ کا نمایاں پہلو رہی۔ خاص طور پر حمزہ کی تیز رفتار بیٹنگ نے بڑے ہدف کے تعاقب کو ممکن بنایا، جبکہ حسنین نے نسبتاً متوازن انداز میں ایک اینڈ سنبھالے رکھا۔ دونوں کے یکے بعد دیگرے آؤٹ ہونے سے انگلینڈ کو واپسی کا موقع ملا، جسے میزبان بولرز نے آخری اوور تک برقرار رکھا۔
نوجوان سطح کی دوطرفہ سیریز کھلاڑیوں کے لیے بین الاقوامی مقابلے، دباؤ میں فیصلہ سازی اور طویل محدود اوورز کی اننگز کا تجربہ فراہم کرتی ہیں۔ اس میچ میں پاکستان کی شکست کے باوجود بڑے ہدف کے قریب پہنچنا اور آخری گیند تک مقابلہ جاری رکھنا بیٹنگ یونٹ کی مزاحمت کی عکاسی کرتا ہے۔ دوسری طرف انگلینڈ کے لیے تین رنز کی فتح نے سیریز کے آخری میچ سے پہلے اعتماد بحال کیا ہے۔

