دبئی: انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے اے سی سی ویمنز ٹی20 ایشیا کپ 2026 کے سیمی فائنل میں سلو اوور ریٹ برقرار رکھنے پر پاکستان خواتین کرکٹ ٹیم کے کھلاڑیوں پر میچ فیس کا پانچ فیصد جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ آئی سی سی کے مطابق پاکستان مقررہ وقت میں ہدف سے ایک اوور کم تھا، جب کہ قابلِ قبول ٹائم الاؤنسز کو حساب میں شامل کرنے کے بعد بھی اوور ریٹ کی کمی برقرار رہی۔

یہ پابندی امارات انٹرنیشنل پینل آف میچ ریفریز کی جی ایس لکشمی نے عائد کی۔ آئی سی سی کوڈ آف کنڈکٹ کے آرٹیکل 2.22 کے تحت کم از کم اوور ریٹ کی خلاف ورزی پر ہر کم اوور کے لیے کھلاڑیوں کی میچ فیس کا پانچ فیصد جرمانہ کیا جاتا ہے۔ پاکستان کی کپتان فاطمہ ثنا نے الزام قبول کیا اور مجوزہ سزا تسلیم کر لی، اس لیے باقاعدہ سماعت کی ضرورت پیش نہیں آئی۔

چارج آن فیلڈ امپائرز ورندا راٹھی اور شتھیرا جاکر جیزی، تھرڈ امپائر رقیہ سلطانہ اور فورتھ امپائر رباب احسن نے عائد کیا۔ آئی سی سی کی کارروائی ٹیم کے سیمی فائنل نتیجے سے الگ انضباطی معاملہ ہے اور اس جرمانے کے تحت پوائنٹس کی کٹوتی یا اگلے میچ کی پابندی کا اعلان نہیں کیا گیا۔

پاکستان کا سیمی فائنل سری لنکا کے خلاف دبئی میں کھیلا گیا تھا۔ پاکستان نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے پانچ وکٹوں پر 130 رنز بنائے۔ فاطمہ ثنا نے ناقابلِ شکست 47 رنز کی اننگز کھیلی اور بعد میں بولنگ میں بھی چار وکٹیں حاصل کیں، لیکن سری لنکا نے 131 رنز کا ہدف چھ وکٹوں کے نقصان پر 18.4 اوورز میں حاصل کر کے فائنل کے لیے کوالیفائی کر لیا۔

پاکستان کی ایشیا کپ مہم سیمی فائنل شکست کے ساتھ ختم ہوئی، جبکہ بعد میں بھارت نے فائنل میں سری لنکا کو شکست دے کر ٹائٹل اپنے نام کیا۔ سلو اوور ریٹ کا موجودہ جرمانہ پاکستان کے میدان میں نتیجے کو تبدیل نہیں کرتا، مگر یہ بین الاقوامی میچوں میں مقررہ وقت کے اندر اوورز مکمل کرنے سے متعلق آئی سی سی کے ضابطے کی خلاف ورزی کا باضابطہ ریکارڈ ہے۔

آئی سی سی نے 14 ستمبر کو جاری اپنی رپورٹ میں پاکستان خواتین ٹیم کی سزا کو اسی اعلامیے میں شامل کیا جس میں بھارتی فاسٹ بولر کرانتی گوڑ کے خلاف الگ کوڈ آف کنڈکٹ کارروائی کی تفصیل دی گئی تھی۔ دونوں معاملات الگ نوعیت کے ہیں: پاکستان کی سزا ٹیم اوور ریٹ سے متعلق ہے، جبکہ بھارتی کھلاڑی کا معاملہ کھلاڑی کے رویے سے متعلق ضابطے کے تحت تھا۔