بوڈاپیسٹ: پاکستان کے اولمپک گولڈ میڈلسٹ ارشد ندیم نے inaugural World Athletics Ultimate Championship کے مردوں کے جیولن تھرو مقابلے میں سیزن کی اپنی بہترین کارکردگی دکھاتے ہوئے 81.49 میٹر تھرو کی، لیکن پانچویں پوزیشن پر رہنے کے باعث فیصلہ کن چوتھے راؤنڈ میں جگہ نہ بنا سکے۔ مقابلہ ہنگری کے نیشنل ایتھلیٹکس سینٹر میں منعقد ہوا۔
Dawn کے مطابق ارشد ندیم نے پہلی کوشش میں 74.42 میٹر تھرو کی، دوسری کوشش میں 79.66 میٹر تک بہتری لائے اور تیسری کوشش میں 81.49 میٹر کا سیزن بیسٹ ریکارڈ کیا۔ نئے مقابلے کے فارمیٹ کے تحت ابتدائی تین راؤنڈز کے بعد صرف چار بہترین ایتھلیٹس کو چوتھی اور فیصلہ کن کوشش کا موقع ملا، اس لیے پاکستانی ایتھلیٹ کا مقابلہ تین تھروز کے بعد ختم ہو گیا۔
سری لنکا کے رومیش پاتھراگے نے 91.09 میٹر کی غیر معمولی تھرو کے ساتھ طلائی تمغہ جیتا۔ ان کی چوتھے راؤنڈ کی یہ کوشش میدان میں واضح برتری ثابت ہوئی۔ گریناڈا کے اینڈرسن پیٹرز 86.18 میٹر کے ساتھ دوسرے اور جرمنی کے جولین ویبر 85.89 میٹر کے ساتھ تیسرے نمبر پر رہے۔ پاتھراگے نے اس سے قبل 87.11 میٹر کی بھی مضبوط کوشش کی تھی۔
ارشد ندیم کے لیے 2026 کا سیزن ان کی پیرس اولمپکس 2024 والی سطح کے مقابلے میں مشکل رہا ہے، جہاں انہوں نے 92.97 میٹر کی اولمپک ریکارڈ تھرو کے ساتھ گولڈ میڈل جیتا تھا۔ رواں سیزن میں انہوں نے سوئٹزرلینڈ کے ایک مقابلے میں نویں پوزیشن حاصل کی، جبکہ گلاسگو کامن ویلتھ گیمز میں 77.41 میٹر کی بہترین کوشش کے باوجود فائنل راؤنڈ تک نہیں پہنچ سکے۔ بوڈاپیسٹ میں 81.49 میٹر کی تھرو اس تناظر میں بہتری ضرور ہے، مگر عالمی پوڈیم کے لیے درکار فاصلے سے اب بھی کم رہی۔
نتیجے کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ جاتی ہے کہ ایشین گیمز کے مردوں کے جیولن کا فائنل 28 ستمبر کو جاپان کے Aichi-Nagoya میں ہونا ہے۔ پاتھراگے کی موجودہ فارم انہیں ایشیائی مقابلے کے نمایاں دعوے داروں میں رکھتی ہے، جبکہ ارشد ندیم کے لیے بوڈاپیسٹ کا سیزن بیسٹ ایشین گیمز سے پہلے کارکردگی میں بہتری کا اشارہ ہے۔
پانچویں پوزیشن کو تمغہ یا فائنل راؤنڈ کی کامیابی نہیں سمجھا جا سکتا، لیکن ارشد کی 81.49 میٹر تھرو ان کے موجودہ سیزن کی بہترین کوشش ہے۔ اگلے مقابلے میں ان کے لیے بنیادی چیلنج رفتار، ردھم اور طویل فاصلے کی مستقل مزاجی کو بہتر بنانا ہوگا تاکہ وہ ایشین گیمز میں عالمی معیار کے حریفوں کے مقابلے میں پوڈیم کے لیے مضبوط دعویٰ پیش کر سکیں۔

