پاکستان کی فٹبال ٹیم نے فیفا آسیان کپ کے گروپ بی میچ میں دو گول کے خسارے سے شاندار واپسی کرتے ہوئے فلپائن کے خلاف مقابلہ 2-2 سے برابر کر دیا۔ جیو نیوز کے مطابق انڈونیشیا کے شہر بنڈونگ میں کھیلے گئے میچ میں پاکستان نے دوسرے ہاف میں علی اکبر خان اور عبدالصمد ارشد کے گولز کی بدولت اپنے پہلے فیفا مقابلے میں پہلا پوائنٹ حاصل کیا۔

میچ کے ابتدائی حصے میں فلپائن نے زیادہ دباؤ ڈالا اور 24ویں منٹ میں سینڈرو رئیس نے ری باؤنڈ پر گول کرکے اپنی ٹیم کو برتری دلا دی۔ پہلے ہاف کے اختتام سے قبل پاکستان کے خلاف ہینڈ بال کے بعد پنالٹی دی گئی جسے بیورن کرسٹینسن نے گول میں تبدیل کرکے اسکور 2-0 کر دیا۔ پاکستان نے وقفے تک کئی دفاعی مواقع پر دباؤ برداشت کیا، جبکہ گول کیپر یوسف بٹ نے بھی اہم بچاؤ کیے۔

ہیڈ کوچ نولبرٹو سولانو نے دوسرے ہاف کے آغاز میں تبدیلیاں کیں اور پاکستان نے فوری طور پر ردعمل دکھایا۔ 47ویں منٹ میں کپتان عبداللہ اقبال کے پاس پر علی اکبر خان نے دفاعی کھلاڑی کو پیچھے چھوڑتے ہوئے گول کیا۔ یہ علی اکبر کا پاکستان کے لیے پہلا بین الاقوامی گول تھا اور اس سے ٹیم دوبارہ میچ میں واپس آ گئی۔

تقریباً ایک گھنٹے کے کھیل کے بعد عبدالصمد ارشد نے دائیں جانب سے گیند حاصل کرکے پینلٹی ایریا میں داخل ہوتے ہوئے شاٹ لگایا اور اسکور 2-2 کر دیا۔ جیو نیوز کے مطابق یہ ان کا دوسرا بین الاقوامی گول تھا۔ برابر ہونے کے بعد پاکستان نے فاتحانہ گول کے لیے دباؤ برقرار رکھا، مگر فلپائن نے باقی وقت میں دفاع سنبھال لیا اور میچ ڈرا پر ختم ہوا۔

پاکستان کو گروپ بی کے افتتاحی میچ میں تھائی لینڈ کے خلاف 4-0 سے شکست ہوئی تھی، اس لیے فلپائن کے خلاف یہ نتیجہ ٹیم کے لیے اہم بحالی ثابت ہوا۔ درجہ بندی میں پاکستان 198ویں جبکہ فلپائن 136ویں نمبر پر بتایا گیا، تاہم دوسرے ہاف میں پاکستانی ٹیم نے زیادہ منظم اور جارحانہ کھیل پیش کیا۔

میچ میں پاکستان نے بعض نوجوان کھلاڑیوں کو بھی بین الاقوامی موقع دیا۔ عبدالرحمن اور عبدالصمد خان نے متبادل کے طور پر میدان میں آکر اپنے بین الاقوامی ڈیبیو کیے۔ فیفا آسیان کپ میں پاکستان کی پہلی شرکت ہونے کے باعث یہ ڈرا تاریخی اعتبار سے بھی اہم ہے، کیونکہ اس کے ساتھ ٹیم نے مقابلے میں اپنے پہلے گولز اور پہلا پوائنٹ درج کرایا۔