اسلام آباد: وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ پاکستان روپیہ میں نامزد مگر امریکی ڈالر میں سیٹل ہونے والے بانڈ کے اجرا کو آگے بڑھانا چاہتا ہے، جبکہ موجودہ یورو بانڈ قرض کے بعض حصے کو ڈیجیٹل ٹوکن کی شکل دینے کے امکان پر بھی کام ہو رہا ہے۔ یہ اعلان 4 ستمبر کو اسلام آباد میں ایک تقریب کے دوران کیا گیا۔ دونوں اقدامات ابھی مجوزہ یا تیاری کے مرحلے میں ہیں؛ کسی نئے روپیہ-منسلک بانڈ کی حتمی مالیت، شرح منافع، مدت یا اجرا کی تاریخ جاری نہیں کی گئی۔
اورنگزیب کے مطابق حکومت نے روپیہ میں نامزد اور ڈالر میں طے ہونے والے بانڈ پر کام کے لیے متعلقہ اداروں کو مینڈیٹ دے دیا ہے۔ ایسے آلے میں سرمایہ کاری کی بنیادی قدر یا ادائیگی روپے سے منسلک ہو سکتی ہے، مگر بین الاقوامی سرمایہ کاروں کے لیے خرید و فروخت یا تصفیہ ڈالر میں کیا جاتا ہے۔ اس ڈھانچے کے حتمی کرنسی خطرے، شرح تبادلہ کے فارمولے اور ادائیگی کی شرائط صرف اجرا کی قانونی دستاویزات سامنے آنے پر واضح ہوں گی۔
حکومت اس منصوبے کا ذکر جولائی میں بھی کر چکی تھی، جب بین الاقوامی مشیروں کے لیے درخواستیں طلب کیے جانے کی اطلاع دی گئی تھی۔ موجودہ بیان میں نئی پیش رفت یہ بتائی گئی ہے کہ اداروں کو کام سونپا جا چکا ہے اور وزارت خزانہ اسے حالیہ تین ارب ڈالر کے یورو بانڈ اجرا کے بعد اگلے مالیاتی آلات میں شمار کر رہی ہے۔ تاہم مینڈیٹ دینا بانڈ فروخت ہونے یا رقم موصول ہونے کے برابر نہیں؛ اس کے لیے مارکیٹ حالات، دستاویزات، قیمت بندی اور سرمایہ کاروں کی طلب کے مراحل باقی ہوں گے۔
وزیر خزانہ نے موجودہ یورو بانڈ قرض کی ٹوکنائزیشن کا منصوبہ بھی بیان کیا۔ ٹوکنائزیشن میں روایتی مالی اثاثے یا قرض کی ملکیت اور حقوق کو بلاک چین یا کسی دوسرے تقسیم شدہ کھاتے پر ڈیجیٹل نمائندگی دی جا سکتی ہے۔ ممکنہ طور پر اس سے لین دین، ملکیت کے ریکارڈ اور تصفیے کے بعض مراحل ڈیجیٹل ہو سکتے ہیں، لیکن حکومت نے یہ نہیں بتایا کہ کون سا بانڈ، کتنی رقم، کون سا ٹیکنالوجی پلیٹ فارم یا کون سا قانونی دائرۂ اختیار استعمال کیا جائے گا۔
ٹوکنائزیشن کو نئی قرض گیری سے الگ سمجھنا ضروری ہے۔ موجودہ قرض کو ڈیجیٹل شکل دینے سے اصل واجب الادا رقم خود بخود ختم یا کم نہیں ہوتی۔ سرمایہ کار کے حقوق، کوپن ادائیگی، میچورٹی، کسٹوڈی، سائبر تحفظ، منی لانڈرنگ کے ضابطے اور تنازع حل کا طریقہ بدستور واضح قانونی فریم ورک کا تقاضا کرتے ہیں۔ حکومتی بیان میں اسے ایک ایسی کوشش کہا گیا ہے جسے ابھی آزمایا اور آگے بڑھایا جانا ہے، نہ کہ مکمل شدہ لین دین۔
یہ اعلان پاکستان کی جانب سے عالمی سرمایہ منڈیوں میں قرض کے ذرائع متنوع بنانے کی کوششوں کے تسلسل میں ہوا ہے۔ حکومت روایتی یورو بانڈ، سکوک، چینی منڈی کے پانڈا بانڈ اور روپیہ سے منسلک بین الاقوامی آلے جیسے مختلف ذرائع استعمال کرنا چاہتی ہے تاکہ بیرونی مالی ضروریات پوری کرنے اور قرض کی مدت بڑھانے کے زیادہ آپشن دستیاب ہوں۔ ہر آلے کی افادیت اس کی مجموعی لاگت، کرنسی خطرے، میچورٹی اور حاصل شدہ رقم کے استعمال سے جانچی جائے گی۔
اورنگزیب نے تقریب میں کہا کہ 30 جون کو پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر 18.4 ارب ڈالر تھے اور حکومت مالی سال 2027 کے اختتام تک انہیں 21 ارب ڈالر تک لے جانا چاہتی ہے، جو ان کے بقول تین ماہ سے کچھ زیادہ درآمدی کور کے مساوی ہو سکتا ہے۔ ذخائر کا یہ ہدف حکومتی تخمینہ ہے اور اس پر برآمدات، ترسیلات زر، قرض کی آمد و ادائیگی، درآمدی بل اور عالمی مالی حالات اثر انداز ہوں گے۔
وزیر خزانہ نے رواں مالی سال کے لیے چار فیصد سے زیادہ معاشی نمو کا ہدف بھی دہرایا، ساتھ ہی امریکا اور ایران کے جاری تنازع، عالمی تیل کی قیمتوں اور مہنگائی و نمو پر ممکنہ اثرات کو بیرونی خطرات قرار دیا۔ پاکستان توانائی درآمد کرنے والا ملک ہے، اس لیے تیل کی قیمت یا رسد میں بڑی تبدیلی بیرونی ادائیگیوں اور مالی اہداف کو متاثر کر سکتی ہے۔
مجوزہ بانڈ اور ٹوکنائزیشن کی حقیقی پیش رفت کا اگلا قابل تصدیق مرحلہ مشیروں کی تقرری کی تفصیل، قانونی و ریگولیٹری منظوری، سرمایہ کار دستاویز، مجوزہ حجم، قیمت بندی اور اجرا کی تاریخ ہو گی۔ اس وقت تک اعلان کو مالیاتی ذرائع متنوع بنانے کی پالیسی سمت سمجھا جانا چاہیے، مکمل شدہ قرض لین دین نہیں۔




