پاکستان بیورو شماریات نے اگست 2026 کے صارف قیمت اشاریے کے اعداد جاری کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ملک میں عمومی مہنگائی سالانہ بنیاد پر 11.15 فیصد رہی۔ جولائی 2026 کے مقابلے میں اشاریہ 1.19 فیصد بڑھا، جبکہ رواں مالی سال کے پہلے دو ماہ، جولائی اور اگست، میں اوسط مہنگائی 10.17 فیصد ریکارڈ کی گئی۔ یہ شرحیں صارف قیمت اشاریے میں مختلف اشیا اور خدمات کی مجموعی تبدیلی ظاہر کرتی ہیں اور کسی ایک گھرانے کے حقیقی اخراجات اس کی خریداری کی نوعیت اور مقام کے مطابق مختلف ہوسکتے ہیں۔
سرکاری اعداد کے مطابق شہری علاقوں میں اگست کی سالانہ مہنگائی 10.43 فیصد اور دیہی علاقوں میں 12.22 فیصد رہی۔ ماہانہ بنیاد پر شہری اشاریہ 0.91 فیصد جبکہ دیہی اشاریہ 1.60 فیصد بڑھا۔ شہری و دیہی شرحوں کا فرق اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ خوراک، ایندھن، نقل و حمل اور مقامی منڈیوں کی قیمتوں میں تبدیلی کا اثر تمام علاقوں میں یکساں نہیں رہا۔
اگست میں خوراک اور غیر الکوحل مشروبات کے گروپ کی قیمتیں سالانہ بنیاد پر 13.89 فیصد زیادہ رہیں۔ جلد خراب ہونے والی غذائی اشیا کی سالانہ مہنگائی 24.91 فیصد ریکارڈ کی گئی، جس سے تازہ سبزیوں اور دیگر موسمی اجناس کی قیمتوں میں تیزی کا دباؤ نمایاں ہوا۔ ماہانہ موازنے میں پیاز کی قیمت شہری علاقوں میں 45.87 فیصد اور دیہی علاقوں میں 48.35 فیصد بڑھی۔ یہ اضافہ ایک مخصوص شے کی قومی اوسط تبدیلی ہے اور شہر یا ضلع کی سطح پر اصل قیمتیں مختلف ہوسکتی ہیں۔
نقل و حمل کے گروپ میں سالانہ اضافہ 20.17 فیصد رہا، جبکہ ماہانہ بنیاد پر اس شعبے کا اشاریہ 3.41 فیصد بڑھا۔ شہری علاقوں میں موٹر ایندھن کی قیمت میں ماہانہ 5.61 فیصد اضافے کی اطلاع دی گئی۔ ایندھن اور آمدورفت کی لاگت میں اضافہ گھریلو سفر کے ساتھ سامان کی ترسیل اور کاروباری اخراجات پر بھی اثر ڈال سکتا ہے، تاہم ادارۂ شماریات کے جاری کردہ اعداد خود کسی مخصوص کاروباری یا آمدنی کے اثر کا تخمینہ نہیں دیتے۔
صارف قیمت اشاریہ ایک مقررہ ٹوکری میں شامل اشیا اور خدمات کی قیمتوں کا تقابلی پیمانہ ہے۔ سالانہ شرح اگست 2026 کو اگست 2025 سے، جبکہ ماہانہ شرح اگست کو جولائی 2026 سے ملاتی ہے۔ اس لیے 11.15 فیصد کا مطلب یہ نہیں کہ ہر شے کی قیمت اتنی ہی بڑھی، بلکہ مختلف گروپوں کے وزن کے مطابق مجموعی اشاریہ میں یہ تبدیلی ہوئی۔ بعض اشیا میں زیادہ اضافہ اور بعض میں کمی یا نسبتاً کم تبدیلی ہوسکتی ہے۔
اگست کے اعداد سے ظاہر ہوتا ہے کہ حالیہ مہینے میں قیمتوں کا دباؤ صرف سالانہ موازنے تک محدود نہیں رہا بلکہ ماہانہ اشاریے میں بھی اضافہ ہوا۔ خاص طور پر دیہی علاقوں، جلد خراب ہونے والی غذائی اشیا اور نقل و حمل میں نسبتاً بلند شرحیں گھریلو بجٹ کے لیے اہم ہیں۔ آئندہ رجحان کا تعین خوراک کی رسد، موسمی حالات، توانائی کی قیمتوں، شرح مبادلہ اور حکومتی پالیسی سمیت متعدد عوامل سے ہوگا۔ فی الحال تصدیق شدہ تصویر اگست 2026 کی سرکاری اشاریاتی رپورٹ ہے؛ مستقبل کی مہنگائی سے متعلق کوئی حتمی نتیجہ ان ایک ماہ کے اعداد سے اخذ نہیں کیا جاسکتا۔




