اسلام آباد: پاور ڈویژن نے بجلی کی سرکاری تقسیم کار کمپنیوں، ڈسکوز، کو ڈیٹیکشن بل بنانے کے عمل کو ڈیجیٹل اور خودکار کرنے کی ہدایت دی ہے۔ وزارت کے مطابق اس اقدام کا مقصد انسانی مداخلت اور غیر ضروری صوابدیدی اختیار کم کرنا، صارفین کو زائد یا غیر متناسب بلوں سے بچانا اور شکایات کے ازالے کو زیادہ شفاف بنانا ہے۔

پریس انفارمیشن ڈپارٹمنٹ کے ذریعے 4 ستمبر 2026 کو جاری سرکاری بیان میں کہا گیا کہ ماضی میں میٹر کی خرابی، تکنیکی نقص یا استعمال کی درست ریڈنگ دستیاب نہ ہونے کی صورت میں متعلقہ قواعد کے تحت تخمینہ لگا کر ڈیٹیکشن بل جاری کیے جاتے رہے ہیں۔ بعض معاملات میں تخمینی کھپت صارف کی حقیقی کھپت سے مطابقت نہ رکھنے کی شکایات سامنے آئیں، جس سے زائد بلنگ اور طویل شکایتی عمل کا مسئلہ پیدا ہوا۔ یہ عمومی انتظامی شکایات ہیں؛ کسی مخصوص تقسیم کار کمپنی یا اہلکار کے خلاف تازہ عدالتی یا ریگولیٹری نتیجہ اس بیان میں جاری نہیں کیا گیا۔

پاور ڈویژن نے تمام ڈسکوز کو ہدایت کی ہے کہ نیپرا کے کنزیومر سروس مینوئل میں ضروری ترامیم کی تیاری اور دیگر متعلقہ اقدامات کریں۔ چونکہ کنزیومر سروس مینوئل ریگولیٹری دستاویز ہے، اس لیے مجوزہ تبدیلیوں کو متعلقہ قانونی اور ریگولیٹری طریقۂ کار سے گزرنا ہوگا۔ وزارت کے فیصلے کو مکمل طور پر نافذ شدہ نئے بلنگ نظام کے بجائے اصلاحاتی ہدایت اور عمل درآمد کے آغاز کے طور پر سمجھا جانا چاہیے۔

نئے انتظام کے تحت ڈیٹیکشن بلوں اور ان سے منسلک وصولیوں کی ہر ماہ جانچ کی جائے گی۔ اس نگرانی کا مقصد غیر معمولی بلنگ، اچانک اضافے، کم یا غیر متناسب وصولی اور دیگر مشتبہ رجحانات کو جلد شناخت کرنا ہے تاکہ ذمہ دار ادارہ بروقت اصلاح کرسکے۔ سرکاری بیان میں خودکار نظام کی تکنیکی ساخت، سافٹ ویئر فراہم کرنے والے ادارے، نفاذ کی حتمی تاریخ یا ہر ڈسکو کے لیے الگ مرحلہ وار شیڈول جاری نہیں کیا گیا۔

ڈیٹیکشن بل عام ماہانہ میٹر ریڈنگ سے مختلف حالات میں جاری ہوسکتا ہے، مثلاً میٹر خراب ہونے، ریڈنگ متاثر ہونے یا غیر مجاز استعمال کے شبہے کی صورت میں۔ ہر صورت میں صارف کے ذمہ واجب الادا رقم کا تعین ثبوت، قابلِ اطلاق قواعد اور مقررہ طریقۂ کار کے مطابق ہونا چاہیے۔ خودکاری کا ممکنہ فائدہ یہ ہے کہ حساب کے یکساں اصول لاگو ہوں، ڈیجیٹل ریکارڈ محفوظ رہے اور بعد کی جانچ کے لیے واضح آڈٹ ٹریل دستیاب ہو۔ تاہم خودکار نظام بھی درست ڈیٹا، معیاری فارمولے اور مؤثر اپیل کے بغیر غلطی سے مکمل تحفظ فراہم نہیں کرتا۔

وفاقی وزیر بجلی اویس احمد خان لغاری نے اس اصلاح کو وسیع تر پاور سیکٹر تبدیلیوں کا حصہ قرار دیا ہے۔ وزارت کا مؤقف ہے کہ شفاف بلنگ صارفین کے اعتماد اور تقسیم کار کمپنیوں کی وصولیوں دونوں کے لیے اہم ہے۔ دوسری جانب اس فیصلے کی عملی کامیابی کا اندازہ اس وقت ممکن ہوگا جب ڈسکوز نظام نافذ کریں، نیپرا ضروری قواعد منظور کرے اور زائد بلنگ، شکایات کے فیصلوں اور وصولیوں سے متعلق قابلِ موازنہ اعداد جاری ہوں۔

فی الحال تصدیق شدہ پیش رفت یہ ہے کہ پاور ڈویژن نے ڈیٹیکشن بلنگ کو ڈیجیٹل و خودکار بنانے، انسانی مداخلت کم کرنے، کنزیومر سروس مینوئل میں ضروری تبدیلیوں پر کام کرنے اور ماہانہ نگرانی کا نظام قائم کرنے کی ہدایت دی ہے۔ صارفین کے موجودہ قانونی حقوق، شکایت درج کرانے کے فورم اور کسی بل کو چیلنج کرنے کا طریقۂ کار اس وقت تک موجودہ قواعد کے مطابق رہے گا جب تک نئی ترامیم باضابطہ طور پر نافذ نہیں ہوجاتیں۔