اسلام آباد: وزیر اعظم شہباز شریف اور ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) کے نائب صدر برائے جنوبی، وسطی اور مغربی ایشیا ینگ منگ یانگ نے مین لائن-1 ریلوے منصوبے کے جلد سنگ بنیاد کی ضرورت پر تبادلہ خیال کیا ہے۔ وزیر اعظم دفتر کے مطابق یہ گفتگو اسلام آباد میں اے ڈی بی کے نائب صدر کے اعزاز میں دیے گئے ناشتے کے دوران ہوئی، جو اس منصب پر پاکستان کا اپنا پہلا سرکاری دورہ کر رہے تھے۔
اجلاس میں کراچی سے پشاور تک پاکستان ریلوے کی مرکزی راہداری ایم ایل-1 کی جدید کاری کو بنیادی ترجیح قرار دیا گیا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ اس منصوبے کی تکمیل مال برداری کے نظام کو بہتر بنانے، علاقائی تجارتی رابطوں کو مضبوط کرنے اور صنعتی سرگرمیوں کی مدد کے لیے ضروری ہے۔ سرکاری بیان میں منصوبے کے ’جلد سنگ بنیاد‘ کی ضرورت کا ذکر کیا گیا، تاہم تعمیر شروع کرنے کی حتمی تاریخ، مکمل مالی پیکیج یا اے ڈی بی قرض کی منظوری کا اعلان نہیں کیا گیا۔
ایم ایل-1 تقریباً 1,733 کلومیٹر طویل ریلوے راستہ ہے جو کراچی کو پشاور سے ملاتا ہے اور کوٹری، حیدرآباد، روہڑی، ملتان، لاہور اور راولپنڈی سمیت متعدد بڑے شہروں سے گزرتا ہے۔ منصوبے میں ٹیکسلا سے حویلیاں تک سیکشن بھی شامل ہے۔ مجوزہ کام میں پرانی پٹری کی بحالی، مختلف حصوں کو دوہرا کرنا، سگنلنگ اور حفاظتی نظام کی جدید کاری اور مسافر و مال بردار ٹرینوں کی رفتار اور گنجائش بہتر بنانا شامل رہا ہے۔ منصوبہ چین پاکستان اقتصادی راہداری کا اہم حصہ ہے، لیکن مالی مشکلات، انتظامی تاخیر اور بین الاقوامی فنانسنگ کے مسائل کے باعث اس پر عملی پیش رفت بار بار مؤخر ہوتی رہی ہے۔
ملاقات میں پاکستان اور اے ڈی بی کی نئی کنٹری پارٹنرشپ اسٹریٹیجی 2026 تا 2030 کے تحت ترجیحی منصوبوں کا بھی جائزہ لیا گیا۔ دونوں جانب سے نجی شعبے اور چھوٹے و درمیانے کاروباروں کی معاونت، توانائی اور غذائی تحفظ، برآمدی مسابقت، مصنوعی ذہانت اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر گفتگو ہوئی۔ وزیر اعظم دفتر کے مطابق فریقین نے حکمت عملی کی ترجیحات کو قابلِ پیمائش اور عوامی زندگی پر اثر انداز ہونے والے منصوبوں میں تبدیل کرنے کا عزم ظاہر کیا۔
وزیر اعظم نے دعویٰ کیا کہ مالی، ساختی اور انتظامی اصلاحات کے ذریعے ملک نے مشکل معاشی مرحلے سے نکلنے میں پیش رفت کی ہے اور بڑی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسیوں کی جانب سے مستحکم آؤٹ لک اس کا مظہر ہے۔ یہ حکومت کا مؤقف ہے؛ اجلاس کے سرکاری خلاصے میں ان اصلاحات کے الگ اعداد و شمار یا منصوبہ وار نتائج فراہم نہیں کیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ اہم منصوبوں میں انتظامی رکاوٹیں دور کرنے کے لیے خصوصی عمل درآمدی ٹیمیں کام کر رہی ہیں۔
اس سے ایک روز قبل وفاقی وزیر اقتصادی امور احد چیمہ نے اے ڈی بی حکام کے ساتھ ملاقات میں ایم ایل-1 کو قومی اہمیت کا حامل منصوبہ قرار دیا تھا۔ دستیاب رپورٹس کے مطابق اے ڈی بی نے پاکستان ریلوے میں اصلاحات کے لیے مشترکہ ورکنگ گروپ کے قیام میں تعاون پر آمادگی ظاہر کی۔ یہ انتظامی تعاون اپنی جگہ اہم ہے، لیکن اسے ایم ایل-1 کے لیے حتمی مالیاتی منظوری یا تعمیراتی معاہدہ نہیں سمجھا جا سکتا۔
تازہ رابطے کا عملی اگلا مرحلہ منصوبے کے قابلِ عمل دائرۂ کار، لاگت، مالی ذرائع، خریداری کے طریقۂ کار اور تعمیراتی شیڈول پر باقاعدہ فیصلے ہوں گے۔ جب تک حکومت، اے ڈی بی یا دیگر متعلقہ شراکت دار ان امور پر دستاویزی اعلان نہیں کرتے، موجودہ پیش رفت کو اعلیٰ سطحی ترجیح اور جلد آغاز پر اتفاق تک محدود سمجھا جائے گا۔




