اسلام آباد: پاکستان میں قلیل مدتی مہنگائی کی پیمائش کرنے والا حساس قیمت اشاریہ (ایس پی آئی) 3 ستمبر کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران گزشتہ ہفتے کے مقابلے میں 0.65 فیصد بڑھ گیا۔ پاکستان بیورو برائے شماریات کے جاری کردہ اعداد کے مطابق ایک سال پہلے کے اسی ہفتے سے تقابل کیا جائے تو اشاریہ 8.35 فیصد بلند رہا۔ ہفتہ وار اضافے میں سب سے نمایاں کردار پیاز کی قیمت کا تھا، جس میں 26.30 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
روزمرہ اشیا میں ٹماٹر 2.55 فیصد، آلو 0.96 فیصد، پیٹرول 0.90 فیصد، گندم کا آٹا 0.88 فیصد اور مرغی 0.85 فیصد مہنگی ہوئی۔ ماش کی دال، لہسن، سرسوں کے تیل اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں بھی اضافہ ریکارڈ ہوا، اگرچہ ان اشیا کی شرحیں زیرِ جائزہ رپورٹ میں سرخی کی سطح پر الگ الگ نہیں دی گئیں۔ یہ تبدیلیاں قومی سطح پر منتخب منڈیوں سے جمع کیے گئے اوسط نرخوں پر مبنی ہیں؛ کسی مخصوص شہر یا دکان کی قیمت اس اوسط سے مختلف ہوسکتی ہے۔
دوسری جانب کیلے کی قیمت 2.54 فیصد کم ہوئی۔ مونگ کی دال 0.69 فیصد، ایل پی جی 0.45 فیصد، چینی 0.18 فیصد، انڈے 0.11 فیصد، چنے کی دال 0.06 فیصد اور گڑ 0.05 فیصد سستا ہوا۔ ادارہ شماریات کی نگرانی میں شامل 51 ضروری اشیا میں سے 17 کی قیمت بڑھی، سات کی کم ہوئی اور 27 اشیا کے نرخ ہفتہ بھر تبدیل نہیں ہوئے۔
اخراجاتی گروپوں کے اعداد ظاہر کرتے ہیں کہ ہفتہ وار اضافہ کم آمدنی والے گھرانوں کے لیے نسبتاً زیادہ تھا۔ ماہانہ 17 ہزار 732 روپے تک خرچ کرنے والے کم ترین گروپ کا ایس پی آئی 0.91 فیصد بڑھا۔ دوسرے گروپ کے لیے اضافہ 0.83 فیصد، تیسرے کے لیے 0.71 فیصد، چوتھے کے لیے 0.68 فیصد اور سب سے بلند اخراجاتی گروپ کے لیے 0.58 فیصد رہا۔ یہ فرق بتاتا ہے کہ اس ہفتے مہنگی ہونے والی ضروری اشیا کا وزن کم خرچ کرنے والے گھرانوں کی مخصوص ٹوکری میں زیادہ تھا۔
سالانہ موازنے میں پیاز کی قیمت 162.75 فیصد بلند تھی۔ ایل پی جی 53.61 فیصد، ڈیزل 37.70 فیصد، پیٹرول 31.01 فیصد اور کم ترین بجلی صارف گروپ کے چارجز 25.24 فیصد زیادہ ریکارڈ کیے گئے۔ گندم کے آٹے میں 16.86 فیصد، مرچ پاؤڈر میں 16.37 فیصد، کیلے میں 16.07 فیصد، مٹن میں 16.03 فیصد، بیف میں 13.31 فیصد اور تازہ دودھ میں 8.21 فیصد سالانہ اضافہ ہوا۔
اسی سالانہ تقابل میں آلو 31.61 فیصد، مرغی 23.50 فیصد، چینی 19.38 فیصد اور انڈے 18.18 فیصد سستے تھے۔ نمک، چنے، مسور اور مونگ کی دال کی قیمتیں بھی گزشتہ سال کے اسی ہفتے سے کم رہیں۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ مجموعی اشاریہ میں اضافہ تمام اشیا کی یکساں مہنگائی نہیں بلکہ مختلف قیمتوں کی ملی جلی حرکت کا نتیجہ ہے۔
ایس پی آئی 2015-16 کو بنیادی سال مان کر 17 شہروں کی 50 منڈیوں میں 51 ضروری اشیا کی قیمتوں سے تیار کیا جاتا ہے۔ یہ فوری یا ہفتہ وار دباؤ دکھاتا ہے اور ماہانہ صارف قیمت اشاریے کا متبادل نہیں۔ ایک ہفتے کی تیزی سے طویل مدتی مہنگائی کا حتمی رجحان اخذ نہیں کیا جا سکتا، مگر پیاز سمیت بنیادی خوراک میں بڑا اضافہ گھریلو بجٹ پر فوری دباؤ کی نشاندہی کرتا ہے۔




