پاکستان میں ستمبر کی ذیلی قومی پولیو ویکسینیشن مہم مکمل ہوگئی، جس کے دوران 112 منتخب اضلاع میں 28.2 ملین سے زائد پانچ سال سے کم عمر بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے گئے۔ نیشنل ایمرجنسی آپریشنز سینٹر کے مطابق مہم 21 سے 27 ستمبر 2026 تک جاری رہی اور اس میں 273 ہزار سے زیادہ مرد و خواتین فرنٹ لائن پولیو ورکرز نے گھر گھر جا کر بچوں تک ویکسین پہنچائی۔ مہم پاکستان اور افغانستان میں بیک وقت چلائی گئی، جس کا مقصد سرحدی نقل و حرکت کے باعث وائرس کی ممکنہ ترسیل کے خطرے کو کم کرنا تھا۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پنجاب کے 10 منتخب اضلاع میں 80 لاکھ 64 ہزار سے زیادہ بچوں کو ویکسین دی گئی۔ سندھ کے 30 اضلاع میں یہ تعداد ایک کروڑ ایک لاکھ سے تجاوز کر گئی، جبکہ خیبر پختونخوا کے 37 منتخب اضلاع میں 71 لاکھ 94 ہزار سے زائد بچوں کو قطرے پلائے گئے۔ بلوچستان کے 32 اضلاع میں 23 لاکھ 10 ہزار سے زیادہ بچوں کو ویکسین ملی۔ اسلام آباد میں 4 لاکھ 43 ہزار سے زائد اور گلگت بلتستان کے دو اضلاع میں ایک لاکھ 40 ہزار سے زیادہ بچوں کی ویکسینیشن رپورٹ ہوئی۔
این ای او سی کے مطابق پنجاب کے تین اضلاع — مظفرگڑھ، ڈیرہ غازی خان اور راجن پور — میں مہم ملتوی کی گئی، اس لیے ان علاقوں کے بچوں کی ویکسینیشن الگ مرحلے میں مکمل کی جائے گی۔ مہم کے دوران صوبائی اور ضلعی انتظامیہ، محکمہ صحت، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور شراکت دار تنظیموں نے پولیو ٹیموں کی نقل و حرکت اور رسائی میں معاونت کی۔
پولیو کے خاتمے کی کوششوں میں سب سے بڑا عملی چیلنج ان علاقوں تک مسلسل رسائی ہے جہاں سکیورٹی، نقل مکانی یا والدین کے انکار کے باعث ہر مہم میں تمام بچوں تک پہنچنا مشکل ہوتا ہے۔ Dawn کی رپورٹ کے مطابق بنوں سے متعلق سکیورٹی مسائل اب بھی قومی eradication پروگرام کے لیے ایک نمایاں خطرہ ہیں۔ حکام اس سال پولیو کیسز میں گزشتہ برس کے مقابلے میں بڑی کمی کی توقع کر رہے ہیں، لیکن عالمی معیار کے مطابق وائرس کے خاتمے کے لیے مسلسل نگرانی، ہر مہم میں مکمل کوریج اور routine immunisation کی مضبوطی ضروری ہے۔
پولیو ایک لاعلاج مگر ویکسین سے قابلِ تدارک بیماری ہے، جو زیادہ تر پانچ سال سے کم عمر بچوں کو متاثر کرتی ہے اور مستقل فالج کا سبب بن سکتی ہے۔ این ای او سی نے والدین اور نگہداشت کرنے والوں پر زور دیا ہے کہ ہر پولیو مہم کے دوران بچوں کو قطرے ضرور پلوائیں اور معمول کی حفاظتی ویکسینیشن کا شیڈول بھی بروقت مکمل کریں۔ کسی ایک مہم میں ویکسین لینے کے باوجود متعدد خوراکیں ضروری ہوتی ہیں، کیونکہ زیادہ خطرے والے ماحول میں بار بار ویکسینیشن بچوں کی مدافعت کو مضبوط بناتی ہے۔

