اسلام آباد: نیشنل گرڈ کمپنی کے چیئرمین نے کہا ہے کہ بجلی کے شعبے میں بار بار کی جانے والی اصلاحات بنیادی ساختی مسائل کو پوری طرح حل نہیں کر سکیں۔ دی نیشن کی 24 اگست کی رپورٹ کے مطابق انہوں نے یہ بات توانائی کے بارے میں ایک قومی سطح کے شراکت دار مکالمے میں کہی، جہاں حکومتی اداروں، صنعت اور ماہرین نے بجلی کی لاگت، تقسیم کار کمپنیوں کی کارکردگی اور مستقبل کی منڈی پر گفتگو کی۔
چیئرمین کے مطابق تقسیم کار کمپنیوں میں تقریباً 70 فیصد کارکردگی بین الاقوامی معیار کے مطابق ہے، جبکہ باقی 30 فیصد میں حکمرانی اور انتظامی مسائل نمایاں ہیں۔ ان کا استدلال تھا کہ تمام کمپنیوں پر ایک ہی نسخہ لاگو کرنے کے بجائے ہر کمپنی کی عملی صورت حال کے مطابق حل بنایا جانا چاہیے۔ اسی تناظر میں نجکاری کو بھی یکساں اور فوری جواب کے بجائے کمپنی مخصوص فیصلے کے طور پر دیکھنے کی بات کی گئی۔
مکالمے میں مسابقتی تجارتی دوطرفہ معاہدوں کی منڈی، جسے سی ٹی بی سی ایم کہا جاتا ہے، کا ذکر بھی ہوا۔ اس ماڈل کا مقصد بڑے صارفین اور بجلی فراہم کرنے والوں کے درمیان زیادہ براہ راست اور مسابقتی لین دین کی گنجائش پیدا کرنا ہے۔ تاہم ایسی منڈی کے مؤثر ہونے کے لیے ترسیلی صلاحیت، درست پیمائش، شفاف قواعد، قابل عمل معاہدے اور تنازع کے واضح حل کی ضرورت ہوگی۔ دستیاب رپورٹ نے فوری نفاذ کی کوئی نئی حتمی تاریخ نہیں دی۔
ٹیکسٹائل اور دوسرے صنعتی نمائندوں نے توانائی کی لاگت، عالمی مسابقت اور برآمدی منڈیوں کی تعمیلی شرائط پر توجہ دلائی۔ صنعت کے لیے نرخ صرف پیداواری خرچ نہیں بلکہ برآمدی قیمت، آرڈر کی پائیداری اور سرمایہ کاری کے فیصلے پر بھی اثر انداز ہوتے ہیں۔ شرکا نے یہ بھی کہا کہ مشترکہ نظامی اخراجات کی تقسیم واضح اور منصفانہ ہونی چاہیے تاکہ کسی ایک صارف گروپ پر غیر متوازن بوجھ نہ پڑے۔
توانائی کی کارکردگی اور کاربن اخراج میں کمی کو بھی بجلی شعبے کی مالی اصلاح سے جوڑا گیا۔ کم نقصانات، بہتر طلبی انتظام، قابل اعتماد فراہمی اور صاف توانائی کی طرف منظم منتقلی سے صنعتی پیداوار اور قومی اہداف دونوں کو فائدہ ہو سکتا ہے۔ لیکن مکالمے میں پیش کیے گئے خیالات پالیسی سفارشات ہیں؛ ان میں سے ہر تجویز کو نافذ شدہ سرکاری فیصلہ نہیں سمجھا جا سکتا۔
یہ رپورٹ دی نیشن کی براہ راست کوریج میں درج بیانات اور اعداد تک محدود ہے۔ 70 اور 30 فیصد کے تناسب کو نیشنل گرڈ چیئرمین کے مؤقف کے طور پر پیش کیا گیا ہے، جبکہ نجکاری، سی ٹی بی سی ایم اور صنعتی نرخوں سے متعلق گفتگو کو سفارش یا بحث کہا گیا ہے، حتمی حکومتی حکم نہیں۔ — اردو ہیڈلائنز ڈیسک




