اسلام آباد میں حکومت نے ’’پاکستان پی پی پی مانیٹر‘‘ جاری کردیا ہے اور کہا ہے کہ بنیادی ڈھانچے، عوامی خدمات اور تجارتی اداروں میں نجی شعبے کی شرکت بڑھانے کے لیے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اور نجکاری کو بیک وقت استعمال کیا جائے گا۔ مانیٹر کا اجرا قومی اسٹریٹجک ڈائیلاگ برائے پی پی پیز اور نجکاری کے موقع پر ہوا، جس میں وفاقی و صوبائی حکام، ایشیائی ترقیاتی بینک، مالیاتی اداروں، ترقیاتی شراکت داروں اور سرمایہ کار برادری کے نمائندوں نے شرکت کی۔
سرکاری بیان کے مطابق پاکستان میں 1990 کی دہائی سے اب تک 154 پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ منصوبے مالیاتی تکمیل، یعنی فنانشل کلوز، تک پہنچے ہیں اور ان سے منسلک سرمایہ کاری کا مجموعی حجم تقریباً 36 ارب ڈالر بتایا گیا ہے۔ یہ عدد تاریخی طور پر فنانشل کلوز تک پہنچنے والے منصوبوں کا ہے، نہ کہ موجودہ سال میں آنے والی نئی سرمایہ کاری کا۔ وفاقی سطح کی موجودہ پی پی پی پائپ لائن میں 38 منصوبے شامل ہیں جن کی تخمینی مالیت تقریباً 6.5 ارب ڈالر ہے۔ ان شعبوں میں سڑکیں، ریلویز، ہوا بازی، صحت اور صنعتی بنیادی ڈھانچہ شامل ہیں۔
وفاقی وزیر خزانہ و محصولات محمد اورنگزیب نے اجلاس میں کہا کہ حکومت ایسی کاروباری فضا بنانا چاہتی ہے جس میں نجی سرمایہ کاری، معاشی سرگرمی اور ترقیاتی منصوبوں میں نجی شعبے کی شرکت بڑھے۔ ان کے مطابق اگلے مرحلے میں قابلِ سرمایہ کاری منصوبوں کی مضبوط پائپ لائن تیار کرنا اور انہیں عملی لین دین میں تبدیل کرنا ضروری ہے۔ تاہم پائپ لائن میں شمولیت کسی منصوبے کی مالی بندش، تعمیر یا حتمی سرمایہ کاری کی ضمانت نہیں ہوتی؛ اس کے لیے تیاری، منظوری، بولی اور معاہدوں کے الگ مراحل مکمل کرنا ہوتے ہیں۔
وزیراعظم کے مشیر برائے نجکاری اور چیئرمین نجکاری کمیشن محمد علی نے کہا کہ ملک کی مستقبل کی بنیادی ڈھانچہ ضروریات صرف سرکاری اخراجات سے پوری نہیں کی جاسکتیں۔ انہوں نے پی پی پی اور نجکاری کو ایک دوسرے کا متبادل نہیں بلکہ تکمیلی ذرائع قرار دیا۔ ان کے مطابق پی پی پی کے ذریعے نجی سرمایہ اور مہارت کو عوامی منصوبوں میں لایا جاسکتا ہے، جبکہ تجارتی نوعیت کے سرکاری اداروں میں نجی ملکیت یا انتظام کارکردگی اور سرمایہ کاری بہتر بنانے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔
حکومت کے مطابق اس وقت 27 لین دین پر مشتمل نجکاری پروگرام بھی زیر عمل ہے، جس میں بجلی تقسیم کار کمپنیاں، بڑے ہوائی اڈے، انشورنس کمپنیاں اور خصوصی بینک شامل ہیں۔ سرکاری پریس ریلیز میں پی آئی اے کی انتظامی کنٹرول کے ساتھ نجکاری کو حالیہ پیش رفت کے طور پر پیش کیا گیا، جبکہ ڈسکوز اور ایئرپورٹ رعایتوں پر کام جاری بتایا گیا ہے۔ ہر مجوزہ لین دین کی حتمی صورت، قیمت اور ٹائم لائن متعلقہ قانونی اور مسابقتی کارروائی مکمل ہونے پر ہی طے ہوگی۔
ایشیائی ترقیاتی بینک کے نائب صدر ینگ منگ یانگ نے نجی سرمایہ متحرک کرنے کے لیے منظم پی پی پی ڈھانچے کی اہمیت پر زور دیا۔ اے ڈی بی کے مطابق مناسب طور پر تیار کیے گئے معاہدے محدود سرکاری وسائل کی تکمیل، منصوبے کی پوری عمر میں دیکھ بھال اور خدمات کی بہتری میں مدد دے سکتے ہیں۔ پاکستان پی پی پی مانیٹر کا مقصد سرمایہ کاروں کو ماضی کے منصوبوں، موجودہ سرگرمی اور آئندہ مواقع کی زیادہ واضح تصویر فراہم کرنا بتایا گیا ہے۔
اس اقدام کا عملی امتحان منصوبوں کی شفاف تیاری، مالی خطرات کی منصفانہ تقسیم، وفاق اور صوبوں کے درمیان ہم آہنگی اور مسابقتی بولی کے عمل میں ہوگا۔ فی الحال تصدیق شدہ پیش رفت مانیٹر کا اجرا، سرکاری منصوبہ جاتی اعداد اور نجی سرمایہ بڑھانے سے متعلق حکومتی پالیسی عزم ہے؛ پائپ لائن میں درج منصوبوں کے مکمل ہونے یا متوقع سرمایہ حاصل ہونے کو ابھی حتمی نتیجہ نہیں سمجھا جاسکتا۔




