اسلام آباد: وزیراعظم کے مشیر برائے نجکاری اور چیئرمین نجکاری کمیشن محمد علی نے کہا ہے کہ پاکستان کی موجودہ وفاقی پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ پائپ لائن میں 38 منصوبے شامل ہیں جن کی مجموعی مالیت تقریباً 6.5 ارب ڈالر ہے، لیکن ملک کی بڑھتی بنیادی ڈھانچہ ضروریات پوری کرنے کے لیے اس حجم میں نمایاں توسیع درکار ہے۔ انہوں نے یہ بات ایشیائی ترقیاتی بینک کے زیر اہتمام نجی سرمایہ، پی پی پیز اور نجکاری سے متعلق قومی اسٹریٹجک ڈائیلاگ میں کہی۔
محمد علی کے مطابق حکومت اکیلے تمام ضروری انفراسٹرکچر کی مالی اعانت نہیں کر سکتی، خصوصاً ایسے وقت میں جب ملک کی بچت کی شرح تقریباً 14 فیصد بتائی جا رہی ہے۔ انہوں نے آبادی اور شہری توسیع کے تخمینوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ آنے والی دہائیوں میں ٹرانسپورٹ، صحت، شہری خدمات، صنعت اور دیگر شعبوں میں سرمایہ کاری کی ضرورت مزید بڑھے گی۔
موجودہ پی پی پی پائپ لائن میں سڑکوں، ریلوے، اسپتالوں، ہوٹل و سیاحت، ہوا بازی اور صنعتی اسٹیٹس سمیت مختلف شعبوں کے منصوبے شامل ہیں۔ مشیر نجکاری نے کہا کہ صرف منصوبوں کی تعداد بڑھانا کافی نہیں بلکہ انہیں اس انداز میں تیار کرنا ہوگا کہ نجی سرمایہ کاروں کے لیے قانونی، مالی اور تجارتی شرائط واضح اور قابل عمل ہوں۔
حکومت وفاقی پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اتھارٹی، جسے پی تھری اے کے نام سے بھی پیش کیا جا رہا ہے، کو نجکاری ڈویژن کے تحت یکجا کرنے کی سمت کام کر رہی ہے۔ حکومتی مؤقف کے مطابق اس سے پی پی پی، سرکاری اثاثوں کی مونیٹائزیشن اور نجکاری کے عمل کو ایک انتظامی چھتری کے نیچے لانے، طریقہ کار سادہ کرنے اور سرمایہ کاروں کے ساتھ رابطہ بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔
محمد علی نے ملک میں موجود پانچ پی پی پی اتھارٹیز کے درمیان قانونی اور ٹرانزیکشن دستاویزات کو زیادہ معیاری بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ مختلف قواعد اور دستاویزات سرمایہ کاروں اور سرکاری اداروں کے لیے تیاری کا وقت بڑھا سکتے ہیں، جبکہ یکساں فریم ورک منصوبوں کی تیاری اور مالی بندوبست میں تیزی لا سکتا ہے۔ تاہم ہر منصوبے کی منظوری، خطرات کی تقسیم اور مالی ذمہ داری الگ بنیاد پر طے ہوگی۔
نجکاری کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ حکومت 27 ٹرانزیکشنز پر کام کر رہی ہے جن میں بجلی تقسیم کار کمپنیاں، ہوائی اڈے، انشورنس کمپنیاں اور بینک شامل ہیں۔ یہ تعداد جاری حکومتی پروگرام کی نشاندہی کرتی ہے، لیکن ہر ٹرانزیکشن کی تکمیل الگ قانونی، مالی اور بولی کے مراحل سے مشروط ہوگی۔ موجودہ اعلان کا مرکزی نکتہ یہ ہے کہ حکومت بنیادی ڈھانچے کی مالی ضرورت پوری کرنے کے لیے نجی سرمائے اور پی پی پی ماڈل کا استعمال بڑھانا چاہتی ہے۔




