کراچی: پاکستان میں نجی شعبے کی جانب سے بینکوں سے نئے قرض کے حصول کا رجحان رواں مالی سال کے ابتدائی مہینوں میں کمزور رہا ہے، جبکہ 11 ستمبر تک قرضوں کی خالص واپسی 364.5 ارب روپے تک پہنچ گئی۔ یہ صورتحال کاروباری سرگرمی اور طویل مدتی سرمایہ کاری کے حوالے سے محتاط رویے کی عکاسی کرتی ہے۔

ڈان کی رپورٹ کے مطابق نجی شعبے کی جانب سے قرض کی واپسی گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں دو گنا سے بھی زیادہ رہی۔ مالی سال کے آغاز میں کاروباری ادارے عموماً ورکنگ کیپیٹل، خام مال اور دیگر ضروریات کے لیے بینکاری نظام سے فنانسنگ لیتے یا سابق قرضوں کی ادائیگی کرتے ہیں، تاہم موجودہ اعداد و شمار نئے قرض کی طلب میں محدود رفتار دکھا رہے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ مالی سال کے دوران نجی شعبے کے قرض میں اضافہ ضرور ہوا تھا، لیکن تجارت اور صنعت میں طویل مدتی سرمایہ کاری کے واضح آثار محدود رہے۔ معاشی نمو مالی سال 2026 میں 3.7 فیصد رہی، جبکہ ایشیائی ترقیاتی بینک نے مالی سال 2027 کے لیے بھی تقریباً 3.7 فیصد نمو کی پیش گوئی کی ہے۔ یہ تخمینہ اس بات کی جانب اشارہ کرتا ہے کہ حالیہ برسوں کے مقابلے میں معاشی رفتار میں بہت بڑا اضافہ متوقع نہیں۔

نجی شعبے کے قرض کی رفتار کو شرح سود، کاروباری اعتماد، درآمدی ضروریات، توانائی کی لاگت، طلب کی سطح اور مجموعی معاشی توقعات سمیت متعدد عوامل متاثر کرتے ہیں۔ اس لیے قرضوں کی خالص واپسی کو کسی ایک وجہ سے منسلک کرنا درست نہیں ہوگا۔ بینکوں کے لیے بھی سرکاری شعبے کو قرض دینے اور نجی کاروبار کو فنانسنگ فراہم کرنے کے درمیان منافع اور خطرے کا موازنہ اہم رہتا ہے۔

کمزور کریڈٹ آف ٹیک کا اثر بالخصوص اس وقت اہم ہو جاتا ہے جب حکومت نجی سرمایہ کاری، صنعتی توسیع اور روزگار میں اضافے کو معاشی بحالی کا حصہ قرار دے رہی ہو۔ طویل مدتی سرمایہ کاری کے لیے کاروباری اداروں کو صرف قرض کی دستیابی ہی نہیں بلکہ مستقبل کی طلب، پالیسی استحکام اور قابلِ برداشت مالی لاگت کے بارے میں بھی اعتماد درکار ہوتا ہے۔

آنے والے مہینوں میں نجی شعبے کے قرض کے اعداد و شمار یہ جانچنے کے لیے اہم ہوں گے کہ آیا کاروباری ادارے مالی سال آگے بڑھنے کے ساتھ نئی سرمایہ کاری اور ورکنگ کیپیٹل کے لیے بینکاری فنانسنگ بڑھاتے ہیں یا قرضوں کی واپسی کا موجودہ رجحان برقرار رہتا ہے۔