اسلام آباد: پاکستان سنگل ونڈو (PSW) نے ہانگ کانگ کے کسٹمز اینڈ ایکسائز ڈپارٹمنٹ کے تیار کردہ ValidAP پلیٹ فارم کے ساتھ اپنا تکنیکی انضمام فعال کر دیا ہے۔ دستیاب رپورٹس کے مطابق یہ نظام 25 ستمبر 2026 سے عملی طور پر کام کرنا شروع ہوا اور اس کا مقصد سرحد پار تجارت میں استعمال ہونے والی الیکٹرانک دستاویزات کی اصلیت اور سالمیت کی فوری ڈیجیٹل تصدیق ممکن بنانا ہے۔

Profit by Pakistan Today اور Business Recorder کی رپورٹس کے مطابق ValidAP بلاک چین پر مبنی تصدیقی ڈھانچہ استعمال کرتا ہے۔ اس میں کسی الیکٹرانک دستاویز کا ایک منفرد ڈیجیٹل فنگرپرنٹ، یعنی ہیش، بنایا جاتا ہے۔ اس ہیش کی مدد سے متعلقہ اتھارٹی یہ جانچ سکتی ہے کہ پیش کی گئی دستاویز اصل ہے اور اس میں اجرا کے بعد کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔ اہم بات یہ ہے کہ تصدیق کے لیے خود مکمل دستاویز یا اس میں موجود حساس تجارتی معلومات کو پلیٹ فارم پر منتقل یا محفوظ کرنا ضروری نہیں رہتا۔

اس پیش رفت کی بنیاد پاکستان کسٹمز اور ہانگ کانگ کے کسٹمز اینڈ ایکسائز ڈپارٹمنٹ کے درمیان 18 مئی 2026 کو طے پانے والی مفاہمتی یادداشت پر رکھی گئی تھی۔ اس معاہدے نے پاکستان کسٹمز کی ValidAP میں شمولیت کا باضابطہ فریم ورک فراہم کیا۔ رپورٹس کے مطابق پاکستان اس پلیٹ فارم میں شامل ہونے والا پہلا ملک ہے، جبکہ موجودہ انضمام پاکستان کی جانب سے ValidAP طرز کی ڈیجیٹل دستاویز تصدیق کا پہلا عملی نفاذ ہے۔

پاکستان سنگل ونڈو پہلے ہی درآمد، برآمد اور ٹرانزٹ سے متعلق معلومات اور سرکاری تقاضوں کو ایک ڈیجیٹل نظام کے ذریعے یکجا کرنے کے لیے استعمال ہو رہا ہے۔ ValidAP کے ساتھ انضمام سے کاغذی دستاویزات، دستی تصدیق اور مختلف اداروں کے درمیان اصل کاغذات بھیجنے پر انحصار کم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس کے ذریعے کسٹمز اور دیگر متعلقہ حکام کو تجارتی دستاویزات کی صداقت جانچنے کے لیے ایک زیادہ تیز اور محفوظ طریقہ دستیاب ہوگا۔

اس نظام کے عملی اثرات کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ کتنے تجارتی دستاویزات اور کتنے سرحد پار شراکت دار اس تصدیقی طریقہ کار کو اپناتے ہیں۔ فی الحال تصدیق شدہ پیش رفت یہ ہے کہ PSW اور ValidAP کے درمیان تکنیکی رابطہ فعال ہو چکا ہے اور پاکستان نے ہانگ کانگ کے ڈیجیٹل تصدیقی پلیٹ فارم کے ساتھ عملی سطح پر کام شروع کر دیا ہے۔