پاکستان کو آئندہ ربیع سیزن 2026-27 کے دوران آبپاشی کے پانی میں تقریباً 25 فیصد کمی کا سامنا ہو سکتا ہے۔ ڈان کی 28 ستمبر کی رپورٹ کے مطابق ملک کے بڑے آبی ذخائر میں ربیع سیزن کے آغاز کے لیے دستیاب carryover ذخیرہ 9.5 ملین ایکڑ فٹ سے بھی کم رہنے کا امکان ہے، جو 2021 کے بعد کم ترین سطح بتائی جا رہی ہے۔ اس صورتحال نے گندم سمیت اہم ربیع فصلوں کے لیے پانی کی دستیابی پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔
انڈس ریور سسٹم اتھارٹی (ارسا) کی تکنیکی کمیٹی ربیع سیزن کے لیے پانی کی مجموعی دستیابی، متوقع دریاوی آمد، ذخائر کی سطح اور صوبوں کے حصوں کا جائزہ لے گی۔ کمیٹی کی سفارشات کی بنیاد پر ارسا کی ایڈوائزری کمیٹی بعد میں صوبائی تقسیم اور ممکنہ کمی کے باضابطہ اعداد طے کرے گی۔ ابتدائی تخمینوں میں پانی کی کمی تقریباً ایک چوتھائی بتائی گئی ہے، تاہم حتمی شرح موسمی حالات، دریا کے بہاؤ اور ذخائر کی حقیقی سطح کے مطابق بدل سکتی ہے۔
پانی کی ممکنہ کمی کا سب سے بڑا اثر گندم کی فصل پر پڑ سکتا ہے، کیونکہ ربیع سیزن میں گندم ملک کی سب سے اہم غذائی فصل ہے اور اس کی بوائی بڑے پیمانے پر نہری آبپاشی پر منحصر ہوتی ہے۔ گزشتہ سیزن میں بھی پیداوار اور دستیابی کے بارے میں تشویش سامنے آئی تھی، اس لیے اگر پانی کی قلت شدید رہی تو صوبائی زرعی محکموں کو بوائی کے شیڈول، آبپاشی کی ترجیحات اور پانی کے مؤثر استعمال سے متعلق اضافی اقدامات کرنا پڑ سکتے ہیں۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پانی کی تقسیم کے لیے تین سطحی فارمولے کے ممکنہ استعمال پر ایک بار پھر سندھ اور پنجاب کے درمیان اختلافات پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔ صوبوں کے درمیان پانی کی تقسیم ایک حساس بین الصوبائی معاملہ ہے اور ارسا کو دستیاب پانی، 1991 کے پانی معاہدے اور عملی قلت کے درمیان توازن قائم کرنا ہوتا ہے۔ اس لیے ابتدائی 25 فیصد کمی کو حتمی صوبائی کٹوتی سمجھنا درست نہیں ہوگا؛ اصل حصے ارسا کے باضابطہ فیصلے کے بعد واضح ہوں گے۔
ربیع سیزن میں پانی کی کمی صرف زرعی پیداوار تک محدود اثر نہیں رکھتی بلکہ اس کے نتائج خوراک کی قیمتوں، درآمدی ضرورت اور دیہی آمدنی تک جا سکتے ہیں۔ اگر ذخائر میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہوا تو وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو پانی کی بچت، نہری نظام کے مؤثر انتظام اور زیادہ پانی استعمال کرنے والی فصلوں کے شیڈول پر خصوصی توجہ دینا ہوگی۔ ارسا کی تکنیکی اور ایڈوائزری کمیٹیوں کے آئندہ فیصلے اس سیزن کی زرعی منصوبہ بندی کے لیے بنیادی رہنمائی فراہم کریں گے۔
