پاکستان نے بین الاقوامی کیپٹل مارکیٹ میں دو حصوں پر مشتمل یورو بانڈ کی فروخت سے 3 ارب ڈالر جمع کر لیے ہیں، جسے وزارت خزانہ نے ملک کی اب تک کی سب سے بڑی واحد بین الاقوامی کیپٹل مارکیٹ ٹرانزیکشن قرار دیا ہے۔ وزارت کے مطابق بانڈ کے لیے تقریباً 6 ارب ڈالر کے آرڈرز موصول ہوئے، یعنی پیش کردہ حجم کے قریب دو گنا سرمایہ کار طلب سامنے آئی۔

یہ اجرا ایسے وقت ہوا ہے جب پاکستان کئی برس بعد عالمی بانڈ مارکیٹ میں واپس آیا ہے۔ چند روز قبل وزارت خزانہ نے ڈوئل ٹرانچ بانڈ کے اجرا کا عمل شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ تازہ فروخت کے بعد حکومت کو بیرونی مالی وسائل میں فوری اضافہ ملے گا، تاہم بانڈ کے ساتھ مستقبل میں سود اور اصل زر کی ادائیگی کی ذمہ داری بھی پیدا ہوگی۔

وزارت خزانہ نے سرمایہ کاروں کی وسیع جغرافیائی اور ادارہ جاتی شرکت کو پاکستان کے معاشی استحکام اور اصلاحاتی پروگرام پر اعتماد کا اشارہ قرار دیا۔ بانڈ کی قیمت، مدت اور سرمایہ کاروں کی حتمی تقسیم جیسے عوامل اس قرض کی اصل مالی لاگت کے جائزے میں اہم ہوں گے۔ عالمی شرح سود اور پاکستان کی کریڈٹ رسک پریمیم بھی اس لاگت پر اثر انداز ہوتے ہیں۔

پاکستان اپنی بیرونی مالی ضروریات پوری کرنے کے لیے آئی ایم ایف، عالمی بینک، ایشیائی ترقیاتی بینک، دوطرفہ شراکت داروں، کمرشل قرضوں اور بانڈ مارکیٹ سمیت مختلف ذرائع استعمال کرتا ہے۔ بین الاقوامی بانڈ مارکیٹ تک کامیاب رسائی حکومت کو فنڈنگ کے ذرائع متنوع بنانے میں مدد دیتی ہے، لیکن زیادہ مہنگا قرض مستقبل کے بجٹ اور زرمبادلہ ذخائر پر دباؤ بھی ڈال سکتا ہے۔

وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے اسلام آباد میں مالی پائیداری سے متعلق ایک اعلیٰ سطحی مکالمے میں بھی اس پیش رفت کا ذکر کیا۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ معاشی استحکام، مالی اصلاحات اور بیرونی کھاتے میں بہتری نے عالمی سرمایہ کاروں کی دلچسپی بحال کی ہے۔ بانڈ کی کامیابی کا طویل مدتی فائدہ اس بات پر منحصر ہوگا کہ حاصل شدہ مالی گنجائش کو کس طرح استعمال کیا جاتا ہے اور پاکستان مستقبل میں قرض کی ادائیگی کی صلاحیت، برآمدات اور زرمبادلہ آمدن کو کس حد تک بہتر بناتا ہے۔