اسلام آباد: پاکستان کی وزارت اطلاعات نے افغان طالبان کے اس مؤقف کو مسترد کر دیا ہے کہ افغانستان کے پاس دوسرے ممالک میں عدم استحکام پیدا کرنے یا اس کی مالی معاونت کرنے کی صلاحیت اور وسائل موجود نہیں۔ وزارت نے کہا کہ پاکستان کے سلامتی سے متعلق تحفظات محض قیاس آرائی پر مبنی نہیں اور کابل کو سرحد پار دہشت گردی کے بارے میں قابل تصدیق اقدامات کرنا ہوں گے۔
یہ ردعمل افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کے بیان کے بعد سامنے آیا، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ افغانستان کے مفاد میں پاکستان میں عدم تحفظ پیدا کرنا یا وہاں عدم استحکام کی کارروائیوں کی حمایت کرنا شامل نہیں۔ افغان ترجمان نے یہ مؤقف بھی اختیار کیا تھا کہ طالبان انتظامیہ کے پاس دوسرے ممالک میں عدم استحکام پیدا کرنے یا اسے مالی مدد دینے کے وسائل اور صلاحیت نہیں۔
پاکستانی وزارت اطلاعات نے جواب میں کہا کہ افغان طالبان پاکستان کے دیرینہ اور جائز سلامتی خدشات کا براہ راست جواب دینے کے بجائے توجہ ہٹانے والے الزامات لگا رہے ہیں۔ وزارت نے اپنے مؤقف کی تائید میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی پابندیوں کی نگرانی کرنے والی ٹیم اور امریکی کانگریس کو پیش کی گئی آپریشن اینڈیورنگ سینٹینل سے متعلق امریکی رپورٹ کا حوالہ دیا۔
وزارت کے مطابق مذکورہ بین الاقوامی جائزوں میں افغانستان میں مختلف مسلح گروہوں کی موجودگی اور سرگرمیوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ پاکستانی بیان میں امریکی رپورٹ کے حوالے سے کہا گیا کہ تحریک طالبان پاکستان کو افغان سرزمین پر سرگرمیوں کی گنجائش ملنے کے باعث پاکستان کے خلاف حملوں میں اضافہ ہوا۔ وزارت نے ٹی ٹی پی کی تعداد سے متعلق رپورٹ کے اندازوں کو بھی اپنے سلامتی خدشات کی سنگینی کی دلیل قرار دیا۔ یہ نکات متعلقہ رپورٹس اور پاکستانی حکومت کی تشریح پر مبنی ہیں، جبکہ افغان طالبان پاکستان کے الزامات کی تردید کرتے رہے ہیں۔
وزارت اطلاعات نے کہا کہ سرحد پار مسلح دراندازی کی کوششیں، پاکستان میں انسداد دہشت گردی کارروائیوں کے دوران افغان شہریوں اور مسلح گروہوں کے ارکان کی ہلاکت اور غیر ملکی ساختہ ہتھیاروں کی برآمدگی ایسے معاملات ہیں جن کی سنجیدہ جانچ ضروری ہے۔ وزارت نے افغان طالبان حکام کی جانب سے مبینہ سہولت کاری سے متعلق پاکستانی خدشات بھی دہرائے، تاہم ان الزامات کو افغان حکومت کی جانب سے تسلیم شدہ حقائق کے طور پر پیش نہیں کیا گیا۔
پاکستان نے زور دیا کہ اس کے سلامتی اقدامات افغان عوام کے خلاف نہیں بلکہ دہشت گردی کے خطرات کے خلاف ہیں۔ بیان میں کابل سے مطالبہ کیا گیا کہ ٹی ٹی پی، بلوچستان لبریشن آرمی اور ان سے منسلک گروہوں سمیت کسی بھی تنظیم کو افغان سرزمین پاکستان کے خلاف حملوں کی منصوبہ بندی یا تیاری کے لیے استعمال نہ کرنے دی جائے۔
وزارت نے سابق امریکی نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد کے ان الزامات کو بھی بے بنیاد قرار دیا کہ پاکستان افغان شہریوں کو طالبان کے خلاف مسلح کر رہا ہے۔ پاکستان نے کہا کہ اس کی انسداد دہشت گردی کارروائیوں کو افغان شہریوں کی بھرتی یا افغانستان میں مسلح گروہوں کی سرپرستی سے جوڑنا گمراہ کن ہے۔ اسلام آباد نے ساتھ ہی کہا کہ وہ باہمی احترام، قابل تصدیق وعدوں اور دہشت گرد پناہ گاہوں کے خلاف عملی اقدامات کی بنیاد پر ذمہ دارانہ رابطے کے لیے تیار ہے۔

