وفاقی وزیر خزانہ و محصولات محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ پاکستان ایک ریگولیٹڈ ورچوئل اثاثہ فریم ورک کی جانب بڑھ رہا ہے اور حکومت بلاک چین و ٹوکنائزیشن کو حقیقی معاشی ضروریات سے جوڑنے پر توجہ دے رہی ہے۔ انہوں نے نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے اعلیٰ سطح ہفتے کے دوران "United Nations Digital Cooperation Day 2026" کی نشست میں خطاب کرتے ہوئے یہ مؤقف پیش کیا۔
وزیر خزانہ کے مطابق ٹوکنائزیشن کو محض نئی مالی ٹیکنالوجی کے طور پر نہیں بلکہ کم لاگت ترسیلات زر، چھوٹے اور درمیانے کاروباروں کی فنانسنگ، سرکاری قرض کے انتظام اور مالی خدمات تک وسیع رسائی جیسے عملی مقاصد کے لیے استعمال ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ نجی شعبے کی جدت کو مضبوط ریاستی تحفظات، شمولیتی ڈیجیٹل انفراسٹرکچر اور بین الاقوامی تعاون کے ساتھ آگے بڑھانا ضروری ہے۔
اورنگزیب نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ابھرتی ہوئی معیشتوں کو عالمی ڈیجیٹل اور ورچوئل اثاثہ معیارات وضع کرنے کے عمل میں مؤثر نمائندگی ملنی چاہیے۔ پاکستان میں ورچوئل اثاثوں کے لیے ریگولیٹری ڈھانچے کی طرف پیش رفت کا مطلب یہ نہیں کہ ہر قسم کے کرپٹو یا ٹوکن کو خودکار طور پر منظوری حاصل ہو گئی ہے؛ حتمی قانونی دائرہ، لائسنسنگ، نگرانی اور صارف تحفظ متعلقہ قوانین اور ریگولیٹرز کی تفصیلی قواعد سازی سے طے ہوں گے۔
نیویارک میں وزیر خزانہ کی ملاقاتوں میں ڈیجیٹل جدت کے علاوہ ماحولیاتی فنانسنگ اور آفات سے نمٹنے کی مالی صلاحیت بھی زیر بحث رہی۔ انہوں نے پاکستان کی موسمیاتی خطرات کے حوالے سے حساسیت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ سیلاب اور دیگر آفات بنیادی ڈھانچے اور آبادیوں پر نمایاں اثر ڈالتی ہیں۔ ان کے مطابق حکومت ابتدائی انتباہی نظام، ڈیزاسٹر رسپانس فریم ورک اور لاگت کے تعین کے ساتھ موسمیاتی سرمایہ کاری منصوبوں کو بہتر بنانے پر کام کر رہی ہے۔
وزیر خزانہ نے عالمی بینک، ایشیائی ترقیاتی بینک اور بین الاقوامی کیپٹل مارکیٹس کے ذریعے ریلیف، موافقت اور تعمیر نو کے لیے مالی وسائل متحرک کرنے کا بھی حوالہ دیا۔ انہوں نے گرین کلائمیٹ فنڈ اور لاس اینڈ ڈیمیج فنڈ سمیت عالمی موسمیاتی فنڈز سے طریقہ کار آسان اور رقوم تک رسائی تیز کرنے کی اپیل کی۔ ورچوئل اثاثوں سے متعلق ان کا مرکزی پیغام یہ تھا کہ نئی ٹیکنالوجی کا استعمال واضح معاشی افادیت، مضبوط نگرانی اور صارف و مالیاتی نظام کے تحفظ کے ساتھ ہونا چاہیے۔
