پاکستان میں رئیل اسٹیٹ انویسٹمنٹ ٹرسٹ، یعنی ریئٹ، شعبے میں 18 فنڈز قائم ہو چکے ہیں اور ان سے منسلک 2 کھرب روپے سے زیادہ مالیت کے منصوبے زیر ترقی ہیں۔ ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق عارف حبیب ڈولمن ریئٹ مینجمنٹ کمپنی کے چیف ایگزیکٹو محمد اعجاز نے ایک پوڈکاسٹ میں کہا کہ ریئٹ ڈھانچہ پاکستان کی بڑی حد تک غیر رسمی پراپرٹی مارکیٹ کو زیادہ دستاویزی اور ادارہ جاتی بنانے میں کردار ادا کر سکتا ہے، جبکہ نسبتاً کم سرمایہ رکھنے والے افراد کو بھی پراپرٹی سے منسلک کاروبار میں حصہ لینے کا راستہ دیتا ہے۔

ریئٹ ماڈل میں جائیداد یا رئیل اسٹیٹ اثاثوں کو سرمایہ کاری یونٹس میں تقسیم کیا جاتا ہے جنہیں مختلف حجم کے سرمایہ کار خرید سکتے ہیں۔ محمد اعجاز کے مطابق اس طریقے سے پراپرٹی سرمایہ کاری کی دو روایتی رکاوٹوں، یعنی بڑی ابتدائی سرمایہ ضرورت اور جائیداد کو فوری نقد میں تبدیل کرنے کی مشکل، کو کم کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے مثال دی کہ ڈولمن سٹی ریئٹ کے آغاز پر اثاثوں کی مالیت تقریباً 22 ارب روپے تھی اور 2.2 ارب یونٹس 10 روپے فی یونٹ کے حساب سے جاری کیے گئے تھے۔

ان کے مطابق ریئٹ اثاثوں کا قانونی ٹائٹل ٹرسٹی کے پاس رہتا ہے جبکہ سرمایہ کار یونٹس رکھتے ہیں جو ان کی معاشی ملکیت کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ٹرسٹی لائسنس یافتہ ادارے ہوتے ہیں، جن میں سینٹرل ڈپازٹری کمپنی اور ڈیجیٹل کسٹوڈین کمپنی جیسے ادارے شامل ہو سکتے ہیں، جبکہ ریئٹ مینجمنٹ کمپنیاں بنیادی کاروبار اور اثاثوں کا انتظام کرتی ہیں۔ اس ڈھانچے کا مقصد سرمایہ کاروں کے مفادات اور اثاثوں کی تحویل کے درمیان ادارہ جاتی تفریق قائم رکھنا ہے۔

محمد اعجاز نے بتایا کہ اس وقت پانچ ریئٹس پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں فہرست شدہ ہیں اور مزید لسٹنگز متوقع ہیں۔ تاہم 18 فنڈز اور 2 کھرب روپے سے زائد منصوبوں کے اعداد صنعت کے ایک سینئر عہدیدار کے بیان پر مبنی ہیں؛ یہ خبر ان منصوبوں کی منافع آوری یا ہر فنڈ کی سرمایہ کاری کارکردگی کی ضمانت نہیں دیتی۔ ریئٹ میں سرمایہ کاری بھی مارکیٹ، جائیداد کی قیمت، کرایہ آمدن، شرح سود، ریگولیٹری تبدیلیوں اور منصوبے کی تکمیل سمیت مختلف خطرات سے متاثر ہو سکتی ہے۔