پاکستان نے افغانستان کے صوبہ نورستان میں حالیہ مبینہ جھڑپوں سے متعلق افغان طالبان کے ان دعوؤں کو مسترد کر دیا ہے جن میں پاکستانی سکیورٹی فورسز اور انٹیلی جنس اداروں کو مسلح گروہوں کی معاونت، سابق افغان اہلکاروں کی بھرتی یا تربیت اور داعش سمیت دیگر گروہوں کی سہولت کاری سے جوڑا گیا تھا۔ وزارت اطلاعات نے 27 ستمبر کو جاری اپنے فیکٹ چیک بیان میں کہا کہ ان الزامات کے حق میں کوئی قابلِ تصدیق شواہد پیش نہیں کیے گئے۔
افغان طالبان کی وزارت دفاع نے دعویٰ کیا تھا کہ داعش سے وابستہ گروہ اور بعض دیگر عناصر پاکستان کی سرحدی سمت سے نورستان کے ضلع کامدیش میں داخل ہوئے اور انہیں پاکستانی حمایت حاصل تھی۔ افغان حکام نے مزید دعویٰ کیا کہ ان میں سے متعدد افراد جھڑپوں میں مارے گئے جبکہ کچھ کو حراست میں لیا گیا۔ یہ دعوے افغان طالبان کا سرکاری مؤقف ہیں اور ان کی آزادانہ تصدیق فوری طور پر دستیاب نہیں تھی۔
پاکستانی وزارت اطلاعات نے جواب میں کہا کہ افغان دعوؤں میں نہ افراد کی قابلِ جانچ شناخت فراہم کی گئی، نہ دستاویزات، مواصلاتی ریکارڈ، فرانزک ثبوت یا کسی آزاد ذریعے کی تصدیق پیش کی گئی۔ وزارت نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایک ویڈیو کو بھی ناکافی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے پاکستان کے سرکاری اداروں کی مبینہ شمولیت ثابت نہیں ہوتی۔
پاکستانی بیان میں افغانستان میں مختلف شدت پسند گروہوں کی موجودگی کے بارے میں اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی اداروں کی سابقہ رپورٹس کا حوالہ دیتے ہوئے کابل سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ اپنی سرزمین پر موجود دہشت گرد تنظیموں کے خلاف قابلِ تصدیق کارروائی کرے۔ پاکستان کا یہ مؤقف طویل عرصے سے رہا ہے کہ افغانستان میں موجود بعض گروہ پاکستانی سرزمین پر حملوں کے لیے پناہ گاہیں اور سہولتیں استعمال کرتے ہیں۔ افغان طالبان ماضی میں ایسے الزامات کی تردید کرتے رہے ہیں یا کہتے رہے ہیں کہ افغان سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دی جائے گی۔
یہ تازہ بیانات ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی سکیورٹی، فضائی حدود، شدت پسند گروہوں کی موجودگی اور باہمی الزامات کے باعث تعلقات میں تناؤ برقرار ہے۔ پاکستان نے اسی عرصے میں 23 ستمبر کے ایک مبینہ فضائی حدود کی خلاف ورزی کے واقعے پر افغان نمائندے کو احتجاج بھی ریکارڈ کرایا۔ دونوں ملکوں کے درمیان جاری الزام تراشی کے تناظر میں نورستان کا معاملہ بھی دوطرفہ اعتماد اور سکیورٹی تعاون کے لیے ایک اور امتحان بن گیا ہے۔
