اسلام آباد: دفتر خارجہ نے نارووال کے سراج گاؤں میں ایک ہندو مندر کو مبینہ طور پر منہدم کیے جانے سے متعلق بھارتی وزارت خارجہ کے دعووں کو مسترد کرتے ہوئے انہیں ’’غلط اور سیاسی محرکات پر مبنی‘‘ قرار دیا ہے۔ پاکستانی حکام کا مؤقف ہے کہ ایک صدی سے زیادہ پرانی عمارت 21 جولائی کو شدید بارش کے باعث متاثر ہوئی اور مقامی انتظامیہ نے نقصان کا جائزہ لینے کے بعد بحالی کے اقدامات شروع کر دیے ہیں۔

دفتر خارجہ کے ترجمان سجاد حیدر خان نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ بھارتی حکومت واقعے کے حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کر رہی ہے۔ ان کے مطابق مندر کی ساخت کو بارش سے نقصان پہنچا، نہ کہ کسی سرکاری یا منظم انہدامی کارروائی سے۔ ترجمان نے یہ بھی کہا کہ مقامی حکام نے مقام کا سروے کیا اور عمارت کی مرمت و بحالی کے لیے اقدامات شروع کیے۔ دستیاب بیان میں بحالی کی مکمل لاگت، کام کی مدت یا تکنیکی سروے کی رپورٹ عام نہیں کی گئی۔

اس معاملے پر ایک اقلیتی حقوق گروپ نے مختلف مؤقف اختیار کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ عمارت کو دانستہ طور پر گرایا گیا تاکہ ساتھ واقع ایک مدرسے کی توسیع کی جا سکے۔ اس الزام کے حق میں کسی مکمل سرکاری یا عدالتی تحقیق کی حتمی رپورٹ سامنے نہیں آئی۔ اسی طرح پاکستان کی جانب سے بارش کو وجہ قرار دینے کے مؤقف کی تفصیلی انجینئرنگ رپورٹ بھی دستیاب خبر میں شامل نہیں تھی۔ اس لیے دونوں دعووں کو ان کے متعلقہ فریقوں سے منسوب کرکے بیان کیا جا رہا ہے، نہ کہ کسی ثابت شدہ نتیجے کے طور پر۔

بھارتی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں واقعے کو مبینہ ’’توڑ پھوڑ‘‘ قرار دیتے ہوئے پاکستان سے فوری اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا۔ پاکستانی دفتر خارجہ نے اس ردعمل کو سیاسی قرار دیا اور بھارت میں مذہبی اقلیتوں اور عبادت گاہوں کے تحفظ سے متعلق اپنے اعتراضات دہرائے۔ دونوں ممالک کے بیانات میں وسیع تر مذہبی آزادی اور اقلیتی حقوق کے معاملات بھی شامل ہوئے، مگر زیر بحث واقعے کی اصل وجہ طے کرنے کے لیے کسی مشترکہ یا آزاد تحقیق کا اعلان نہیں کیا گیا۔

مندر کی موجودہ جسمانی حالت، بحالی کے کام کی رفتار اور مقامی ہندو برادری کی ضروریات سے متعلق مزید مصدقہ تفصیلات انتظامیہ کے سروے یا کسی شفاف تحقیق کے اجرا سے واضح ہو سکیں گی۔ فی الحال تصدیق شدہ بات یہ ہے کہ عمارت کو نقصان پہنچا، پاکستان نے بارش کو وجہ قرار دیا اور بحالی شروع ہونے کا دعویٰ کیا، جبکہ حقوق گروپ نے دانستہ انہدام کا الزام لگایا اور بھارت نے تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ کسی فریق کے الزام یا وضاحت کو حتمی عدالتی یا آزادانہ نتیجہ نہیں سمجھا جا سکتا۔