لاہور/برمنگھم: پاکستان کرکٹ بورڈ (PCB) نے انگلینڈ کے خلاف تیسرے اور آخری ٹیسٹ سے پہلے قومی اسکواڈ اور کوچنگ عملے میں وسیع تبدیلی کرتے ہوئے سات کھلاڑیوں کو ریلیز اور سات نئے کھلاڑیوں کو طلب کر لیا ہے۔ بورڈ نے ریڈ بال ہیڈ کوچ سرفراز احمد اور بولنگ کوچ عمر گل کو بھی موجودہ دورے سے الگ کرکے وائٹ بال ہیڈ کوچ مائیک ہیسن اور بولنگ کوچ ایشلے نوفکے کو آخری ٹیسٹ کے لیے ذمہ داری دے دی ہے۔

اسکواڈ سے ریلیز ہونے والوں میں وکٹ کیپر بیٹر محمد رضوان، اوپنر امام الحق، آل راؤنڈر سلمان علی آغا، بائیں ہاتھ کے اسپنر علی عثمان، آل راؤنڈر عامر جمال، بیٹر محمد اویس ظفر اور فاسٹ بولر خرم شہزاد شامل ہیں۔ سلمان علی آغا نے سیریز کے پہلے ٹیسٹ میں ٹیم کی قیادت بھی کی تھی، جبکہ امام الحق دوسرے ٹیسٹ میں پنڈلی کی کم درجے کی چوٹ کے باعث بیٹنگ نہیں کر سکے تھے۔ PCB کا فیصلہ تمام سات کھلاڑیوں کے لیے ایک جیسی طبی یا تادیبی وجہ بیان نہیں کرتا۔

ان کی جگہ صائم ایوب، عبداللہ فضل، عرفات منہاس، محمد عمران، محمد عمران جونیئر، رضا اللہ اور نوجوان وکٹ کیپر بیٹر سعد بیگ کو انگلینڈ طلب کیا گیا ہے۔ ICC کے مطابق سعد بیگ رواں سال قائداعظم ٹرافی کے بہترین کھلاڑی قرار پائے تھے، جبکہ آنے والے گروپ میں کئی ایسے کھلاڑی شامل ہیں جنہوں نے ابھی ٹیسٹ کرکٹ نہیں کھیلی۔ حتمی پلیئنگ الیون کا اعلان الگ ٹیم انتخاب ہوگا؛ اسکواڈ میں شامل ہونا میچ کھیلنے کی ضمانت نہیں۔

تبدیلیاں انگلینڈ کے ہاتھوں پہلے دو ٹیسٹ میں بھاری شکستوں کے بعد کی گئی ہیں۔ پاکستان ہیڈنگلے میں پہلا میچ ایک اننگز اور 103 رنز سے ہارا، جبکہ لارڈز میں دوسرا ٹیسٹ 194 رنز سے انگلینڈ کے نام رہا۔ میزبان ٹیم نے تین میچوں کی سیریز میں ناقابلِ شکست 0-2 برتری حاصل کر لی ہے، اس لیے پاکستان آخری میچ جیت بھی جائے تو سیریز نہیں جیت سکتا، البتہ کلین سویپ سے بچ سکتا ہے۔

نئے عبوری ہیڈ کوچ مائیک ہیسن نے 4 ستمبر کو کہا کہ کھلاڑیوں کو ریلیز کرنے کا فیصلہ ان کے ذمہ داری سنبھالنے سے پہلے ہو چکا تھا اور وہ اس عمل میں شامل نہیں تھے۔ انہوں نے بتایا کہ ان کی فوری ترجیح ایسا متوازن اسکواڈ بنانا ہے جس میں بیٹنگ کے ساتھ تیز اور اسپن بولنگ کے مختلف آپشن موجود ہوں۔ ہیسن نے ٹیم کے گرد پیدا ہونے والی بے یقینی کو تسلیم کیا، مگر کھلاڑیوں کی توجہ تیسرے ٹیسٹ کی تیاری پر مرکوز رکھنے کی بات کی۔

PCB اور ICC کے دستیاب اعلانات میں ہیسن اور نوفکے کو تیسرے ٹیسٹ کے لیے ذمہ داری دی گئی ہے۔ اسے ازخود مستقل ریڈ بال تقرری، طویل مدتی معاہدہ یا آئندہ تمام ٹیسٹ سیریز کے لیے حتمی کوچنگ ڈھانچہ نہیں سمجھا جا سکتا۔ بورڈ نے سرفراز احمد اور عمر گل کے مستقبل، مستقل ٹیسٹ ہیڈ کوچ کی بھرتی یا تبدیلی کی تفصیلی کارکردگی رپورٹ عوامی طور پر جاری نہیں کی۔

تازہ اسکواڈ میں بابر اعظم کپتان ہیں، جبکہ دیگر کھلاڑیوں میں عبداللہ شفیق، سعود شکیل، شان مسعود، ساجد خان، محمد عباس، محمد علی، عبید شاہ، اذان اویس، محمد غازی غوری اور نئے طلب کیے گئے کھلاڑی شامل ہیں۔ پلیئنگ کنڈیشنز، پچ اور فٹنس جانچ کے بعد ٹیم انتظامیہ گیارہ کھلاڑی منتخب کرے گی۔

تیسرا ٹیسٹ 9 سے 13 ستمبر 2026 تک ایجبسٹن، برمنگھم میں کھیلا جائے گا۔ پاکستان کی فوری آزمائش یہ ہوگی کہ مختصر تیاری کے باوجود نئے اور موجودہ کھلاڑی ایک مربوط بیٹنگ و بولنگ منصوبہ بنا سکیں۔ موجودہ مصدقہ نتیجہ سات کھلاڑیوں کا اخراج، سات متبادل کی شمولیت اور آخری ٹیسٹ کے لیے دو کوچوں کی تبدیلی ہے؛ اس فیصلے کے کھیل پر اثر کا تعین میچ کے نتائج اور کھلاڑیوں کی کارکردگی سے ہوگا۔