پاکستان کی خواتین کرکٹ ٹیم پانچ ستمبر 2026 کو دبئی میں بھارت کے خلاف اے سی سی ویمنز ٹی ٹوئنٹی ایشیا کپ کے اپنے دوسرے گروپ میچ کے لیے تیاری مکمل کررہی ہے۔ آل راؤنڈر عائشہ ظفر نے چار ستمبر کو میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ ٹیم روایتی حریف کے دباؤ کو الگ رکھنے اور مقابلے کو ٹورنامنٹ کے ایک اور اہم میچ کے طور پر لینے کی کوشش کررہی ہے۔

پاکستان نے اپنی مہم کا آغاز تھائی لینڈ کے خلاف 35 رنز کی فتح سے کیا تھا۔ ابتدائی بیٹنگ پاور پلے میں مشکلات کے بعد منیبہ علی کی نصف سنچری نے اننگز کو سنبھالا، جبکہ بولرز نے کم مجموعے کا کامیابی سے دفاع کیا۔ عائشہ کے مطابق اس میچ سے حاصل ہونے والی سیکھ کو بھارت کے خلاف حکمت عملی میں شامل کیا گیا ہے اور ٹیم نے کسی ایک شعبے کے بجائے بیٹنگ، بولنگ اور فیلڈنگ تینوں پر توجہ دی ہے۔

پاکستان نے تھائی لینڈ کے خلاف 119 رنز بنائے تھے۔ عائشہ نے اس مجموعے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ اس دن کی پچ اور حالات میں یہ جیت کے لیے کافی ثابت ہوا۔ ان کے مطابق کسی اننگز کی قدر صرف عدد سے نہیں بلکہ اسی دن کی سطح، موسم اور ہدف کے دفاع کے نتیجے سے بھی جانچی جاتی ہے۔ یہ کھلاڑی کا تجزیہ ہے؛ بھارت کے خلاف نئی پچ اور حالات میں مطلوبہ مجموعہ مختلف ہوسکتا ہے۔

دوسری جانب بھارت نے ہانگ کانگ چائنا کے خلاف بڑا اسکور بنایا۔ سمرتی مندھانا نے 64 گیندوں پر 124 رنز بنائے، بھارت نے 194 رنز کا ہدف دیا اور مخالف ٹیم کو 56 رنز پر آؤٹ کرکے 137 رنز سے کامیابی حاصل کی۔ دونوں ابتدائی میچوں کے اسکور میں نمایاں فرق ہے، تاہم عائشہ نے کہا کہ پچ کی نوعیت اور دن کے حالات کا موازنہ کرتے وقت خیال رکھنا ہوگا۔

پاکستانی آل راؤنڈر نے ٹیم کے اسپن اٹیک پر اعتماد ظاہر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ دبئی کی وکٹوں پر اسپن کا کردار اہم ہوسکتا ہے اور پاکستان کے پاس عالمی معیار کی اسپن بولنگ موجود ہے۔ تھائی لینڈ کے خلاف بھی اسپنرز نے نمایاں کردار ادا کیا تھا۔ حتمی پلیئنگ الیون اور بولنگ امتزاج میچ سے پہلے ٹیم انتظامیہ طے کرے گی؛ کسی کھلاڑی کی یقینی شمولیت کا الگ اعلان نہیں ہوا۔

فیلڈنگ کو تیاری کا دوسرا مرکزی حصہ قرار دیا گیا۔ عائشہ نے کہا کہ ٹیم کے مینٹور نے کھلاڑیوں کو واضح کیا ہے کہ فیلڈنگ پر سمجھوتہ نہیں کیا جاسکتا، کیونکہ اہم مقابلوں میں ایک کیچ، رن آؤٹ یا روکی گئی باؤنڈری نتیجہ بدل سکتی ہے۔ یہ عمومی حکمت عملی ہے اور اس کی عملی کامیابی کا اندازہ میچ میں غلطیوں، محفوظ کیے گئے رنز اور مواقع سے ہوگا۔

عائشہ کے مطابق پاکستان نے بھارتی ٹیم کے لیے کھلاڑی بہ کھلاڑی منصوبہ بنایا ہے اور میچ کے دن اسے نافذ کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ انہوں نے اس منصوبے کی مخصوص تفصیلات ظاہر نہیں کیں۔ اس لیے کسی خاص بھارتی بیٹر یا بولر کے خلاف طے شدہ طریقہ کار کے بارے میں قیاس آرائی درست نہیں ہوگی۔ ٹیم کا باضابطہ مؤقف صرف اتنا ہے کہ حریف کی انفرادی صلاحیتوں کا جائزہ لیا گیا ہے۔

دبئی کی گرم اور مرطوب فضا بھی کھلاڑیوں کے لیے امتحان ہے۔ پاکستان کے پہلے میچ میں موسم کا اثر نمایاں تھا۔ عائشہ نے کہا کہ یہی حالات دوسری ٹیموں کو بھی درپیش ہیں اور پاکستان انہیں بہانے کے بجائے مقابلے کا حصہ سمجھ کر نمٹنے کی کوشش کرے گا۔ فٹنس، پانی کی مناسب مقدار اور میدان میں توانائی برقرار رکھنا دونوں ٹیموں کے لیے اہم ہوگا۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین محسن نقوی نے دبئی میں خواتین ٹیم سے ملاقات کی اور کھلاڑیوں کو نتیجے کے دباؤ سے بالاتر ہوکر بہتر کارکردگی دکھانے کی تلقین کی۔ عائشہ کے مطابق ٹیم کو اعتماد دیا گیا کہ وہ جیت یا شکست کے خوف کے بجائے کھیل کے معیار پر توجہ دے۔

دونوں ٹیموں کا آخری ٹی ٹوئنٹی مقابلہ جون کے عالمی کپ میں ہوا تھا، جہاں بھارت نے 64 رنز سے کامیابی حاصل کی۔ پاکستان نے بھارت کو آخری مرتبہ 2022 کے ایشیا کپ میں سلہٹ کے مقام پر 18 رنز سے شکست دی تھی۔ ماضی کا ریکارڈ بھارت کے حق میں ہے، لیکن پانچ ستمبر کے میچ کا نتیجہ موجودہ فارم، حالات اور میدان پر فیصلوں سے طے ہوگا۔ فی الحال تصدیق شدہ صورت حال یہ ہے کہ دونوں ٹیمیں اپنا پہلا گروپ میچ جیت چکی ہیں اور پاکستان نے فیلڈنگ، اسپن اور مخصوص حریف منصوبہ بندی کو اپنی تیاری کے بنیادی نکات قرار دیا ہے۔