پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق ٹیسٹ کوچ جیسن گلیسپی نے انگلینڈ کے دورے کے دوران کوچنگ اسٹاف اور اسکواڈ میں اچانک تبدیلیوں پر چیف سلیکٹر عاقب جاوید کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ آسٹریلیا کے سابق فاسٹ بولر نے چار ستمبر 2026 کو شائع انٹرویو میں کہا کہ باہر سے دیکھنے پر قومی ٹیم خوف کے ساتھ کھیلتی دکھائی دیتی ہے اور موجودہ انتخابی حکمت عملی میں تسلسل نظر نہیں آتا۔ یہ گلیسپی کی رائے اور دعویٰ ہے، کوئی سرکاری تحقیق یا ثابت شدہ انتظامی نتیجہ نہیں۔

پاکستان نے رواں ہفتے مسلسل دو ٹیسٹ شکستوں کے بعد ہیڈ کوچ سرفراز احمد اور فاسٹ بولنگ کے سربراہ عمر گل کو عہدوں سے ہٹایا، جبکہ سات کھلاڑیوں کو انگلینڈ سے وطن واپس بھیج دیا گیا۔ یہ تبدیلیاں تین میچوں کی سیریز مکمل ہونے سے پہلے کی گئیں۔ گلیسپی نے کہا کہ اس نوعیت کے فیصلوں سے کھلاڑیوں کے روزگار، اعتماد اور ٹیم کے ماحول پر اثر پڑتا ہے اور ان کے نزدیک ذمہ داری کا تعین واضح ہونا چاہیے۔

انہوں نے سلمان علی آغا کی مثال دی، جو پہلے ٹیسٹ میں پاکستان کے کپتان تھے، دوسرے میچ کے لیے ٹیم سے باہر ہوئے اور تیسرے ٹیسٹ سے پہلے وطن واپس بھیجے گئے۔ گلیسپی نے سوال اٹھایا کہ ایک ہی سیریز میں اتنی تیزی سے کردار بدلنے کی منطق کیا تھی۔ انہوں نے اس صورت حال کو عاقب جاوید کی سربراہی میں واضح سلیکشن حکمت عملی نہ ہونے کی علامت قرار دیا۔

گلیسپی نے عاقب جاوید کے ان سابقہ بیانات کو بھی مسترد کیا جن میں پاکستان کرکٹ کے موجودہ مسائل کا کچھ ذمہ دار سابق غیر ملکی کوچز گیری کرسٹن اور گلیسپی کو قرار دیا گیا تھا۔ سابق ٹیسٹ کوچ کا مؤقف تھا کہ وہ اور کرسٹن اب قومی ٹیم کے ساتھ موجود نہیں، جبکہ عاقب جاوید طویل عرصے سے انتخابی عمل کا حصہ ہیں، اس لیے تمام ذمہ داری سابق کوچز پر ڈالنا قابل فہم نہیں۔

انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ چیف سلیکٹر اور کھلاڑیوں کے درمیان رابطے کا فقدان تھا اور بعض فارغ کیے گئے کھلاڑیوں کو اپنے فیصلے کا علم اہل خانہ، دوستوں یا میڈیا کے ذریعے ہوا۔ دستیاب رپورٹ میں متاثرہ ہر کھلاڑی کی الگ تصدیق یا پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے اس مخصوص الزام کا تفصیلی جواب شامل نہیں، اس لیے اسے گلیسپی کے بیان کے طور پر ہی رپورٹ کیا جانا چاہیے۔

پاکستان کو سیریز کے پہلے ٹیسٹ میں ہیڈنگلے کے مقام پر ایک اننگز اور 103 رنز سے شکست ہوئی، جس کے بعد لارڈز میں میزبان انگلینڈ نے 194 رنز سے کامیابی حاصل کی۔ ان دو نتائج نے ٹیم کی بیٹنگ، انتخاب، کوچنگ اور قیادت پر شدید سوالات پیدا کیے۔ تیسرا اور آخری ٹیسٹ نو ستمبر کو ایجبسٹن میں شروع ہونا ہے۔

گلیسپی نے 2024 میں تقریباً آٹھ ماہ پاکستان کی ٹیسٹ ٹیم کی کوچنگ کی تھی اور ان کے دور میں قومی ٹیم نے انگلینڈ کے خلاف ہوم سیریز دو ایک سے جیتی تھی۔ ان کا پاکستان کرکٹ بورڈ سے تعلق بعد میں ختم ہوگیا۔ تازہ بیان موجودہ سیریز کے نتائج اور انتظامی تبدیلیوں پر ان کی بیرونی تنقید ہے، کسی دوبارہ تقرری یا باضابطہ مشاورتی کردار کا اعلان نہیں۔

نیوزی لینڈ کے مائیک ہیسن، جو پہلے ہی پاکستان کے وائٹ بال کوچ تھے، اور آسٹریلیا کے ایشلے نوفکے نے باقی دورے کے لیے ذمہ داریاں سنبھال لی ہیں۔ دیگر سابق پاکستانی کپتانوں اور کوچز نے بھی وسط سیریز تبدیلیوں پر حیرت یا تنقید ظاہر کی، مگر بورڈ کا عملی امتحان تیسرے ٹیسٹ کے انتخاب، کھلاڑیوں کے کردار اور نئی کوچنگ انتظامیہ کے فوری منصوبے سے ہوگا۔

چار ستمبر تک تصدیق شدہ پیش رفت یہ ہے کہ کوچز بدلے گئے، سات کھلاڑی واپس بھیجے گئے اور گلیسپی نے عاقب جاوید کی حکمت عملی و رابطہ کاری پر کھلی تنقید کی۔ کھلاڑیوں کو اطلاع دینے کے طریقے اور داخلی فیصلہ سازی سے متعلق ان کے دعووں کی مکمل آزاد تصدیق سامنے نہیں آئی، اس لیے خبر میں انتظامی فیصلوں اور سابق کوچ کی رائے کو الگ رکھنا ضروری ہے۔