پاکستان نے تائیوان کی دو ایئرلائنز کو اپنی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت دے دی ہے۔ سول ایوی ایشن اتھارٹی کی دستاویزات کے مطابق ایوا ایئر ویز اور چائنا ایئرلائنز کے مسافر اور کارگو طیاروں کے لیے اوورفلائٹ اجازت 28 اکتوبر 2026 سے 27 مارچ 2027 تک مؤثر رہے گی۔

یہ پیش رفت ایسے وقت سامنے آئی جب ایک روز قبل رپورٹس میں کہا گیا تھا کہ پاکستان نے بیجنگ کی ’ون چائنا‘ پالیسی کی حمایت کے تناظر میں تائیوانی کیریئرز کی فضائی حدود تک رسائی محدود کر دی ہے۔ تاہم اجازت ناموں میں کسی سابق پابندی کا ذکر نہیں کیا گیا اور نہ ہی یہ واضح کیا گیا کہ نئی منظوری کسی باضابطہ فیصلے کی واپسی ہے۔ اس لیے دستیاب دستاویزی شواہد کی بنیاد پر یہ کہنا زیادہ درست ہے کہ سول ایوی ایشن اتھارٹی نے دونوں کمپنیوں کے اوورفلائٹ شیڈول کی منظوری دی ہے۔

بزنس ریکارڈر نے بلومبرگ کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ ایوا ایئر کی پرواز 65، جو تائپے سے ویانا جا رہی تھی، جمعرات کی صبح پاکستانی فضائی حدود میں داخل ہوئی۔ ڈان نے بھی سول ایوی ایشن اتھارٹی کے ذرائع کے حوالے سے لکھا کہ دونوں ایئرلائنز کے لیے کوئی ایسا نوٹم جاری نہیں کیا گیا تھا جس میں باقاعدہ پابندی کا اعلان کیا گیا ہو۔

پاکستان طویل عرصے سے بیجنگ کی ون چائنا پالیسی کی حمایت کرتا ہے اور تائیوان کے ساتھ رسمی سفارتی تعلقات نہیں رکھتا۔ اس معاملے میں پاکستانی حکام کے بیانات، پروازوں کے عارضی طور پر متبادل راستوں پر جانے اور بعد میں جاری ہونے والی سول ایوی ایشن دستاویزات کے باعث صورتحال میں ابہام پیدا ہوا۔ تائیوانی حکام نے اس معاملے پر اعتراض بھی کیا، جبکہ چین تائیوان کو اپنے علاقے کا حصہ قرار دیتا ہے اور تائیوان اس دعوے کو مسترد کرتا ہے۔ موجودہ اجازت ناموں سے کم از کم موسم سرما کے شیڈول کے اختتام تک دونوں تائیوانی ایئرلائنز کے لیے پاکستانی فضائی حدود کے استعمال کا انتظام واضح ہو گیا ہے۔