اسلام آباد: وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے جون 2023 میں یونان کے قریب تارکین وطن کی کشتی ڈوبنے کے مہلک سانحے کے تناظر میں اپنے بعض افسران کے کردار اور مبینہ غفلت کی نئی محکمانہ جانچ شروع کر دی ہے۔ ڈان کے مطابق یہ اقدام اس سوال کا جائزہ لینے کے لیے کیا گیا ہے کہ انسانی اسمگلنگ اور غیر قانونی ہجرت کے نیٹ ورکس کے بارے میں دستیاب معلومات پر متعلقہ اہلکاروں نے بروقت اور مؤثر کارروائی کی تھی یا نہیں۔

2023 کا یونان کشتی سانحہ بحیرہ روم میں تارکین وطن کے بدترین حادثات میں شمار کیا گیا تھا۔ کشتی پر بڑی تعداد میں پاکستانی شہری بھی سوار تھے اور واقعے کے بعد پاکستان میں انسانی اسمگلروں، ایجنٹوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف تحقیقات اور گرفتاریاں شروع کی گئی تھیں۔ اس سانحے نے ملک کے مختلف علاقوں سے نوجوانوں کو غیر قانونی راستوں کے ذریعے یورپ پہنچانے والے منظم نیٹ ورکس کی سرگرمیوں پر شدید سوالات اٹھائے تھے۔

نئی محکمانہ کارروائی کا محور ایف آئی اے کے اندر احتساب ہے۔ رپورٹ کے مطابق حکام یہ جانچ رہے ہیں کہ متعلقہ فیلڈ افسران نے مشتبہ انسانی اسمگلروں کے خلاف مقدمات، نگرانی، گرفتاریاں اور سفری دستاویزات سے متعلق کارروائی کس حد تک قواعد کے مطابق کی۔ کسی افسر کے خلاف انکوائری شروع ہونا بذات خود جرم یا غفلت کا حتمی ثبوت نہیں؛ ذمہ داری کا تعین شواہد، ریکارڈ اور محکمانہ طریقہ کار مکمل ہونے کے بعد ہی کیا جا سکتا ہے۔

پاکستان میں غیر قانونی ہجرت کے خلاف کارروائی میں ایف آئی اے مرکزی وفاقی ادارہ ہے۔ یونان سانحے کے بعد حکومت نے انسانی اسمگلنگ کے مقدمات کی تفتیش تیز کرنے، مطلوب ملزمان کی فہرستیں مرتب کرنے اور بیرون ملک موجود نیٹ ورکس تک رسائی کے لیے بین الاقوامی تعاون بڑھانے کی ہدایات دی تھیں۔ اس کے باوجود ایسے نیٹ ورکس کی جغرافیائی وسعت، نقد لین دین اور متعدد ملکوں سے گزرنے والے راستے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے مستقل چیلنج ہیں۔

موجودہ انکوائری کے نتائج سے یہ واضح ہوگا کہ آیا کسی اہلکار کے خلاف باقاعدہ محکمانہ سزا، مزید تفتیش یا فوجداری کارروائی کی سفارش بنتی ہے۔ جب تک انکوائری مکمل نہیں ہوتی، زیر جانچ معاملات کو ثابت شدہ بدعنوانی یا مجرمانہ شراکت قرار دینا درست نہیں ہوگا۔ سانحے کے متاثرہ خاندانوں کے لیے بھی اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ اسمگلنگ نیٹ ورکس اور ممکنہ سرکاری کوتاہی دونوں کے بارے میں قابل اعتماد احتسابی عمل نتیجے تک پہنچے۔