اسلام آباد: سینیٹ نے جمعرات کو لائف انشورنس (نیشنلائزیشن) (ترمیمی) بل 2026 سمیت آٹھ بل منظور کر لیے۔ اسٹیٹ لائف انشورنس کارپوریشن سے متعلق یہ سرکاری بل قومی اسمبلی سے پہلے ہی منظور ہو چکا تھا اور اب ایوان بالا سے منظوری کے بعد قانون سازی کے اگلے آئینی مرحلے کی طرف بڑھے گا۔

بل کے اغراض و مقاصد کے مطابق اس کا مقصد اسٹیٹ لائف کے موجودہ قانونی اور انتظامی ڈھانچے میں تبدیلی کے ذریعے ادارے کو زیادہ عملی لچک دینا، کارپوریٹ گورننس بہتر کرنا اور اسے جدید مالیاتی و ریگولیٹری تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا ہے۔ موجودہ فریم ورک لائف انشورنس (نیشنلائزیشن) آرڈر 1972 پر مبنی ہے، جس کے تحت لائف انشورنس کاروبار کو قومی تحویل میں لے کر اسٹیٹ لائف کو قانونی ادارے کی حیثیت دی گئی تھی۔

ترمیمی قانون اسٹیٹ لائف کو کمپنیز ایکٹ 2017 کے تحت کمپنی میں تبدیل کرنے کے لیے قانونی راستہ فراہم کرتا ہے اور اس کے فریم ورک کو اسٹیٹ اونڈ انٹرپرائزز ایکٹ 2023 اور متعلقہ قوانین سے ہم آہنگ کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ بل میں مستقبل میں ممکنہ حصص فروخت یا نجکاری کے لیے بھی فریم ورک موجود ہے، مگر اس کے متن میں واضح کیا گیا ہے کہ موجودہ ترامیم بذات خود اسٹیٹ لائف کی نجکاری یا حصص فروخت کرنے کا فیصلہ نہیں ہیں۔ ایسا کوئی قدم وفاقی حکومت کی منظوری اور قابل اطلاق قوانین کے تحت الگ سے ہوگا۔

مجوزہ تبدیلی میں جانشین کمپنی کو اثاثوں، واجبات، حقوق اور ذمہ داریوں کی منتقلی کا انتظام بھی شامل ہے تاکہ ادارہ جاتی تبدیلی کے دوران کاروباری تسلسل برقرار رہے۔ بل کے مطابق پالیسی ہولڈرز کے مفادات اور ملازمین کی موجودہ ملازمت کی شرائط، بشمول ریٹائرمنٹ فوائد، کے تحفظ کی شقیں بھی رکھی گئی ہیں۔

سینیٹ نے اسی اجلاس میں ہائر ایجوکیشن کمیشن (ترمیمی) بل 2026، این ایف سی انسٹی ٹیوٹ آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی ملتان (ترمیمی) بل، نیشنل ٹیکسٹائل یونیورسٹی (ترمیمی) بل، نیشنل رحمت للعالمین و خاتم النبیین اتھارٹی (ترمیمی) بل، آرکائیول میٹریل (پریزرویشن اینڈ ایکسپورٹ کنٹرول) (ترمیمی) بل، سینٹرز آف ایکسیلینس (ترمیمی) بل اور نیشنل کالج آف آرٹس انسٹی ٹیوٹ (ترمیمی) بل بھی منظور کیے۔

اجلاس میں آبادی میں تیز اضافے کو روکنے کے لیے مربوط قومی کوششوں سے متعلق ایک متفقہ قرارداد بھی منظور ہوئی، جسے پیپلز پارٹی کی پارلیمانی لیڈر شیری رحمان نے پیش کیا۔ اس طرح ایوان کی کارروائی میں مالیاتی اداروں، اعلیٰ تعلیم، ثقافتی اداروں اور آبادی سے متعلق متعدد قانون سازی اور پالیسی امور زیر بحث آئے۔

اسٹیٹ لائف بل کے بارے میں اہم قانونی فرق یہ ہے کہ سینیٹ کی منظوری سے نجکاری خودکار طور پر واقع نہیں ہوئی۔ منظور شدہ ترامیم مستقبل میں حکومت کو قانونی طور پر ایسے آپشن پر غور کرنے کی گنجائش دیتی ہیں، جبکہ کسی حقیقی نجکاری یا حصص فروخت کے لیے مزید حکومتی فیصلے اور متعلقہ قانونی عمل درکار ہوگا۔