اسلام آباد: وفاقی دارالحکومت کے علاقے چک شہزاد میں چین کی معاونت سے تعمیر کیے گئے 250 بستروں کے پاک چین فرینڈشپ ہسپتال کا افتتاح کر دیا گیا ہے۔ نئی طبی سہولت کو پاکستان اور چین کے ترقیاتی تعاون کے ایک منصوبے کے طور پر پیش کیا گیا ہے اور اس کا مقصد اسلام آباد اور ملحقہ علاقوں کے مریضوں کے لیے سرکاری سطح پر علاج کی اضافی گنجائش فراہم کرنا ہے۔
افتتاحی تقریب میں پاکستانی حکام اور چینی نمائندوں نے شرکت کی۔ حکومت نے ہسپتال کو دونوں ممالک کے دیرینہ تعلقات اور صحت کے شعبے میں تعاون کی علامت قرار دیا۔ منصوبے میں مریضوں کے داخلے، تشخیص، علاج اور مختلف طبی شعبوں کے لیے بنیادی انفراسٹرکچر شامل کیا گیا ہے، جبکہ مکمل آپریشنل صلاحیت کا انحصار طبی عملے، آلات اور انتظامی نظام کی دستیابی پر ہوگا۔
اسلام آباد کے سرکاری ہسپتالوں پر وفاقی دارالحکومت کے علاوہ راولپنڈی اور قریبی علاقوں سے آنے والے مریضوں کا بھی دباؤ رہتا ہے۔ 250 بستروں کی نئی سہولت اس دباؤ کو تقسیم کرنے میں مدد دے سکتی ہے، بالخصوص اس صورت میں جب اسے مناسب تعداد میں ڈاکٹر، نرسیں، تکنیکی عملہ اور ضروری ادویات و تشخیصی سہولیات فراہم کی جائیں۔
چک شہزاد اسلام آباد کے اس حصے میں واقع ہے جہاں متعدد طبی، تحقیقی اور تعلیمی ادارے موجود ہیں۔ نئی سہولت کا محل وقوع اسے شہر کے جنوب مشرقی حصوں اور قریبی آبادیوں کے لیے قابل رسائی بنا سکتا ہے۔ تاہم کسی بھی نئے ہسپتال کی افادیت صرف عمارت اور بستروں کی تعداد سے نہیں بلکہ روزمرہ طبی خدمات، ریفرل نظام اور مریضوں کے لیے حقیقی دستیابی سے طے ہوتی ہے۔
پاکستان اور چین کے درمیان تعاون عموماً بنیادی ڈھانچے، توانائی اور نقل و حمل کے منصوبوں سے جوڑا جاتا ہے، مگر صحت اور سماجی شعبے میں بھی چینی معاونت سے مختلف منصوبے مکمل کیے گئے ہیں۔ پاک چین فرینڈشپ ہسپتال اسی نوعیت کی معاونت کو وفاقی دارالحکومت کے صحت کے نظام سے جوڑتا ہے۔
حکومت کے لیے اگلا مرحلہ ہسپتال کو مستقل بنیادوں پر فعال رکھنا ہوگا۔ اس میں بجٹ، انسانی وسائل، طبی آلات کی دیکھ بھال، ادویات کی فراہمی اور مریضوں کے ریکارڈ و ریفرل کے نظام جیسے انتظامی معاملات بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ نئی عمارت کے افتتاح کے بعد عوامی فائدے کا اصل پیمانہ یہ ہوگا کہ ہسپتال کتنی جلد مکمل خدمات شروع کرتا ہے اور کتنے مریضوں کو بروقت علاج فراہم کرتا ہے۔
منصوبے کی تکمیل پاکستان میں صحت کے سرکاری انفراسٹرکچر میں ایک اضافے کے طور پر اہم ہے۔ اگر ہسپتال اپنی منظور شدہ گنجائش اور مطلوبہ طبی عملے کے ساتھ کام کرے تو یہ اسلام آباد کے موجودہ بڑے سرکاری مراکز پر مریضوں کا دباؤ کم کرنے اور مقامی سطح پر علاج کے مزید اختیارات فراہم کرنے میں کردار ادا کر سکتا ہے۔
