اسلام آباد: میڈیا واچ ڈاگ فریڈم نیٹ ورک نے اپنی سالانہ امپیونٹی رپورٹ 2026 میں کہا ہے کہ پاکستان میں صحافیوں کے خلاف دستاویزی خلاف ورزیوں کی مجموعی تعداد میں کمی کے باوجود میڈیا کارکنوں کے لیے ماحول بدستور مشکل ہے اور قانونی عمل کو دباؤ کے ایک نئے ذریعے، یعنی ’لا فیئر‘، کے طور پر استعمال کیے جانے کا رجحان سامنے آیا ہے۔
’فرام وائلنس ٹو لا فیئر: پراسیس ایز پنشمنٹ فار جرنلسٹس‘ کے عنوان سے جاری رپورٹ انٹرنیشنل میڈیا سپورٹ کی تکنیکی معاونت سے تیار کی گئی۔ رپورٹ کے مصنف صحافی عدنان رحمت اور فریڈم نیٹ ورک کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر اقبال خٹک ہیں۔ رپورٹ کے مطابق کم واقعات کا مطلب لازماً زیادہ تحفظ نہیں، کیونکہ درج کیے گئے کیسز کی نوعیت، جغرافیائی پھیلاؤ اور شدت بدستور تشویش کا باعث ہے۔
اکتوبر 2025 سے اگست 2026 کے دوران رپورٹ نے صحافیوں اور میڈیا کارکنوں سے متعلق ایک کام سے منسلک قتل، تین قاتلانہ حملوں، قتل یا نقصان کی 18 دھمکیوں، 11 حملوں، 13 قانونی کارروائیوں اور قانونی کارروائی کی 32 دھمکیوں کو دستاویز کیا۔ پنجاب میں 49 کیسز ریکارڈ کیے گئے، جبکہ خیبر پختونخوا، اسلام آباد اور بلوچستان میں بھی واقعات سامنے آئے۔
رپورٹ میں متاثرین یا ان کے خاندانوں کے بیانات کی بنیاد پر بعض سرکاری حکام اور اہلکاروں پر مبینہ کردار کے الزامات کا ذکر کیا گیا ہے۔ یہ الزامات رپورٹ کے دعوے ہیں اور انہیں عدالتی طور پر ثابت شدہ نتائج نہیں سمجھا جا سکتا۔ رپورٹ کے مطابق ڈیجیٹل اور آزاد صحافی نسبتاً زیادہ نشانہ بنے۔
فریڈم نیٹ ورک نے خاص طور پر پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ اور نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کے ذریعے صحافیوں کے خلاف کارروائیوں پر تشویش ظاہر کی ہے۔ رپورٹ کا مؤقف ہے کہ ہتک عزت، غلط معلومات، ہراسانی یا شہرت کو نقصان پہنچانے جیسے الزامات سائبر کرائم کے طریقہ کار کے ذریعے ایسے معاملات میں بھی سامنے آتے ہیں جو عوامی اخراجات، بدعنوانی یا سرکاری طرز عمل کی رپورٹنگ سے متعلق ہوں۔
رپورٹ کے مطابق حتمی سزا یا ایف آئی آر نہ ہونے کی صورت میں بھی طلبی، آلات کی جانچ، سفر، قانونی اخراجات، حراست، بار بار سماعت اور شہرت کو نقصان خود ایک دباؤ بن سکتے ہیں۔ اس تجزیے کو فریڈم نیٹ ورک نے ’پراسیس ایز پنشمنٹ‘ یعنی قانونی عمل کو سزا کی صورت اختیار کرنے کے طور پر بیان کیا ہے۔
رپورٹ نے وفاقی اور سندھ سطح پر صحافیوں کے تحفظ کے لیے قائم کمیشنوں کی عملی افادیت پر بھی سوال اٹھائے ہیں۔ اس کے مطابق وفاقی تحفظ کا نظام مؤثر انداز میں کام نہیں کر رہا، جبکہ سندھ کا کمیشن زیادہ نمایاں ہونے کے باوجود کراچی سے باہر محدود اثر رکھتا ہے۔ یہ رپورٹ 2 نومبر کو صحافیوں کے خلاف جرائم میں استثنا کے خاتمے کے عالمی دن سے قبل جاری کی گئی ہے اور حکومت و متعلقہ اداروں کے لیے قانونی تحفظات کے عملی نفاذ کا سوال دوبارہ سامنے لاتی ہے۔

