اسلام آباد: وفاقی سیکرٹری اطلاعات و نشریات اشفاق احمد خلیل نے اعلان کیا ہے کہ صحافیوں اور میڈیا کارکنوں کے لیے وزیراعظم ہیلتھ انشورنس اسکیم کو بہتر اور زیادہ جامع شکل میں جلد شروع کیا جائے گا۔ انہوں نے یہ بات اسلام آباد میں آل پاکستان نیوز پیپرز اینڈ الیکٹرانک میڈیا ایمپلائز کنفیڈریشن کے نومنتخب عہدیداروں کی حلف برداری تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔
ریڈیو پاکستان کے مطابق وفاقی سیکرٹری اطلاعات نے کہا کہ صحافت حکومت اور عوام کے درمیان ایک اہم رابطہ ہے اور میڈیا کارکن عوامی مسائل کو سامنے لانے میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ اسی تناظر میں انہوں نے صحت بیمہ اسکیم کو میڈیا کارکنوں کی فلاح سے متعلق حکومتی اقدام کے طور پر پیش کیا۔
اعلان میں اسکیم کے آغاز کی حتمی تاریخ، اہل صحافیوں اور میڈیا کارکنوں کی تعداد، فی خاندان یا فی فرد بیمہ حد، شامل اسپتالوں، پریمیم کی ادائیگی یا رجسٹریشن کے مکمل طریقہ کار کی تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔ اس لیے فی الحال تصدیق شدہ پیش رفت اسکیم کے جلد آغاز کا سرکاری اعلان ہے، جبکہ عملی شرائط اور فوائد سے متعلق مزید تفصیلات متعلقہ وزارت یا اسکیم کے باضابطہ اجرا کے وقت سامنے آنے کی توقع ہے۔
میڈیا اداروں میں کام کرنے والے ملازمین کے لیے صحت اخراجات ایک اہم فلاحی مسئلہ ہیں، خصوصاً ایسے کارکنوں کے لیے جنہیں آجر کی جانب سے جامع میڈیکل کوریج حاصل نہیں۔ سرکاری صحت بیمہ پروگرام کا ممکنہ دائرہ اسی لیے اس بات پر منحصر ہوگا کہ اہلیت میں رپورٹرز اور کیمرہ پرسنز کے علاوہ ڈیسک، تکنیکی، انتظامی اور دیگر میڈیا ملازمین کو کس حد تک شامل کیا جاتا ہے۔ موجودہ اعلان میں ان زمروں کی تفصیلی تقسیم بیان نہیں کی گئی۔
تقریب میں وفاقی سیکرٹری نے میڈیا کارکنوں کے پیشہ ورانہ کردار کو بھی سراہا اور کہا کہ صحافت عوامی مسائل کو حکومتی سطح تک پہنچانے کا ذریعہ ہے۔ حکومت کی جانب سے اسکیم کو زیادہ جامع بنانے کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس کے ڈیزائن میں سابق یا موجودہ انتظامات کے مقابلے میں تبدیلیاں متوقع ہیں، تاہم ان تبدیلیوں کی نوعیت ابھی سرکاری طور پر واضح نہیں کی گئی۔
اسکیم کے باضابطہ آغاز کے بعد اصل اہم نکات میں اہلیت کا معیار، درخواست کا طریقہ، بیمہ کار یا انتظامی ادارہ، علاج کی سالانہ حد، ہسپتالوں کا نیٹ ورک اور خاندان کے افراد کی کوریج شامل ہوں گے۔ جب تک یہ تفصیلات جاری نہیں ہوتیں، اعلان کو صحت بیمہ سہولت کے جلد اجرا کے حکومتی ارادے کے طور پر دیکھا جائے گا، نہ کہ تمام فوائد اور شرائط کی مکمل منظوری یا نفاذ کی تفصیل کے طور پر۔

