اسلام آباد: وفاقی وزیر ریلوے حنیف عباسی نے سینیٹ کو بتایا ہے کہ پاکستان ریلوے نے اپنی زمین پر غیر قانونی تجاوزات اور قبضوں کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اختیار کر رکھی ہے اور قبضے کی کوششوں پر مجموعی طور پر 174 ایف آئی آر درج کی جا چکی ہیں۔

ریڈیو پاکستان کے مطابق وزیر ریلوے نے ایوان بالا کے وقفہ سوالات کے دوران بتایا کہ گزشتہ دو برس کے دوران اربوں روپے مالیت کی ریلوے اراضی واگزار کرائی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری زمین کے تحفظ کے ساتھ ریلوے کے بنیادی ڈھانچے اور مسافر سہولتوں کو بہتر بنانے کے اقدامات بھی جاری ہیں۔

پاکستان ریلوے ملک کے مختلف حصوں میں بڑی مقدار میں اراضی کا مالک ہے، جس میں پٹڑیوں، اسٹیشنوں، ورکشاپس، رہائشی کالونیوں اور تجارتی مقاصد سے منسلک زمین شامل ہے۔ غیر قانونی قبضے طویل عرصے سے ادارے کے اثاثوں کے انتظام کا مسئلہ رہے ہیں۔ وزیر کی جانب سے پیش کیے گئے اعداد موجودہ کارروائی کی سرکاری تفصیل ہیں؛ بیان میں واگزار ہونے والی زمین کا مجموعی رقبہ یا ہر مقدمے کی الگ تفصیل فراہم نہیں کی گئی۔

حنیف عباسی نے سینیٹ کو راولپنڈی، لاہور اور کراچی سمیت مختلف شہروں کے ریلوے اسٹیشنوں کی اپ گریڈیشن کے اقدامات سے بھی آگاہ کیا۔ ان کے مطابق انجنوں کی اوورہالنگ کا عمل جاری ہے اور اسے آئندہ سال 23 مارچ تک مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ ان اقدامات کا مقصد دستیاب رولنگ اسٹاک کی کارکردگی اور مسافروں کے لیے ریلوے خدمات بہتر بنانا ہے۔

ریلوے اراضی کی واگزاری ادارے کے مالی اور انتظامی مفادات کے لیے اہم ہے کیونکہ قیمتی شہری زمین پر قبضے سے نہ صرف سرکاری اثاثوں کا استعمال محدود ہوتا ہے بلکہ مستقبل کے ترقیاتی یا تجارتی منصوبوں میں بھی رکاوٹ پیدا ہو سکتی ہے۔ تاہم وزیر کے بیان میں واگزار زمین سے حاصل ہونے والی ممکنہ آمدن یا اسے آئندہ کس مقصد کے لیے استعمال کیا جائے گا، اس کی تفصیل نہیں دی گئی۔

اسی وقفہ سوالات میں پارلیمانی امور کے وزیر طارق فضل چوہدری نے سرکاری اشتہارات سے متعلق سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ حکومتی اشتہارات عوامی مفاد کے متعین مقاصد کے لیے جاری کیے جاتے ہیں، جن میں شہریوں کو حکومتی پالیسیوں، پروگراموں اور اقدامات سے آگاہ کرنا شامل ہے۔ ریلوے سے متعلق مرکزی پیش رفت، تاہم، تجاوزات کے خلاف مقدمات، زمین کی واگزاری اور اسٹیشنوں و انجنوں کی اپ گریڈیشن کے جاری اقدامات ہیں۔