اسلام آباد: وفاقی آئینی عدالت نے زمین کی یکجائی سے متعلق کارروائیوں میں غیر معمولی تاخیر اور مسلسل مقدمہ بازی روکنے کے لیے ریونیو حکام کے لیے رہنما اصول جاری کیے ہیں۔ چیف جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے تقریباً چالیس سال تک مختلف انتظامی اور عدالتی مراحل میں زیر التوا رہنے والے مقدمے کا جائزہ لیتے ہوئے قرار دیا کہ ایسی طویل کارروائیاں زمین کی یکجائی کے بنیادی مقصد اور مالکان کے ملکیتی حقوق دونوں کو متاثر کرتی ہیں۔ بینچ میں جسٹس علی باقر نجفی بھی شامل تھے۔

مقدمہ خالق الزمان کی سول درخواست پر سامنے آیا، جس میں لاہور ہائیکورٹ راولپنڈی بینچ کے 26 ستمبر 2024 کے حکم کو چیلنج کیا گیا تھا۔ زیر بحث زمین کی یکجائی کی کارروائی 1979 میں شروع ہوئی تھی لیکن اس کے بعد معاملہ متعدد انتظامی اور عدالتی مراحل سے گزرتا رہا۔ وفاقی آئینی عدالت نے لاہور ہائیکورٹ کا معاملہ دوبارہ ریونیو حکام کو بھیجنے کا حکم برقرار رکھنے کے بجائے اسے کالعدم کر دیا۔

عدالت نے کہا کہ یکجائی کی کارروائیاں قانون میں مقررہ مدت یا، جہاں واضح مدت نہ ہو، معقول وقت کے اندر مکمل ہونی چاہئیں۔ ریونیو حکام کو غیر ضروری التوا اور انتظامی تاخیر سے گریز کرنے کی ہدایت کی گئی، جبکہ ناگزیر تاخیر کی صورت میں اس کی وجوہات ریکارڈ کرنا ضروری قرار دیا گیا۔ عدالت نے متاثرہ فریقوں کو منصفانہ سماعت کا موقع دینے اور ہر فیصلے کو متعلقہ ریکارڈ اور قابل فہم وجوہات پر مبنی رکھنے پر بھی زور دیا۔

فیصلے میں یہ اصول بھی طے کیا گیا کہ قانونی طور پر حتمی حیثیت اختیار کر چکے احکامات کو کسی واضح قانونی اختیار کے بغیر دوبارہ نہیں کھولا جانا چاہیے۔ اسی طرح عدالتی ہدایات پر بروقت عمل ہونا چاہیے اور ایسے بار بار کے ریمانڈ یا نئی کارروائیوں کی حوصلہ شکنی کی جائے جو ایک ہی تنازع کو مختلف مراحل میں غیر ضروری طور پر طول دیتے ہوں۔

عدالت کے مطابق طویل انتظامی عدم فعالیت ملکیت اور قبضے کے بارے میں غیر یقینی پیدا کرتی ہے، مالی مشکلات بڑھاتی ہے اور فریقوں کو بار بار مقدمہ بازی پر مجبور کرتی ہے۔ عدالت نے آئین کے آرٹیکل 23 کے تحت محفوظ ملکیتی حقوق کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انتظامی تاخیر ان حقوق کو عملی طور پر بے اثر نہیں بنا سکتی۔

وفاقی آئینی عدالت نے پنجاب بورڈ آف ریونیو کے سینئر ممبر کو ہدایت کی کہ دیرینہ مقدمات کی بروقت تکمیل، مؤثر نگرانی اور بلاجواز تاخیر پر جوابدہی یقینی بنائی جائے۔ یہ رہنما اصول خاص طور پر زمین کی یکجائی کے مقدمات سے متعلق ہیں اور ان کا مقصد ریونیو نظام میں ایسی تاخیر کو کم کرنا ہے جو ملکیتی حقوق کے تعین کو کئی دہائیوں تک غیر یقینی رکھتی ہے۔