اسلام آباد: پاکستان اور سنگاپور نے دوطرفہ تجارت، سرمایہ کاری، رابطوں اور ہنرمندی کے شعبوں میں تعاون کو وسعت دینے کے لیے اعلیٰ سطح کے تبادلے جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔ یہ پیش رفت نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار اور سنگاپور کے وزیر خارجہ ڈاکٹر ویوین بالاکرشنن کے درمیان اسلام آباد میں ہونے والی ملاقات اور وفود کی سطح کے مذاکرات میں سامنے آئی۔

وزارت خارجہ کے مطابق دونوں وزرائے خارجہ نے پاکستان اور سنگاپور کے دیرینہ دوستانہ تعلقات کا جائزہ لیا۔ رواں سال دونوں ملک سفارتی تعلقات کے 60 سال مکمل ہونے کی مناسبت سے رابطوں کو مزید بامقصد بنانے پر توجہ دے رہے ہیں۔ بات چیت میں تجارت اور سرمایہ کاری کے علاوہ کاروباری اداروں کے براہ راست روابط، عوامی سطح کے رابطوں، کنیکٹیویٹی اور مہارتوں کی ترقی پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

اسحاق ڈار نے وفود کی سطح کے مذاکرات کے آغاز پر کہا کہ سیاسی اور سفارتی تعلقات کی گہرائی ابھی دونوں ممالک کے معاشی تعلقات میں پوری طرح منعکس نہیں ہوتی۔ انہوں نے اقتصادی سفارت کاری کو اپنی ترجیحات میں شامل قرار دیتے ہوئے پاکستان کے بورڈ آف انویسٹمنٹ اور سنگاپور کے متعلقہ اداروں کے درمیان تعاون بڑھانے کی تجویز دی۔

دونوں جانب سے کثیرالجہتی فورمز پر تعاون اور جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کی تنظیم آسیان کے ساتھ پاکستان کے بڑھتے روابط پر بھی گفتگو ہوئی۔ سنگاپور 2027 میں آسیان کی صدارت سنبھالنے والا ہے، اس لیے اسلام آباد نے اس تناظر میں سنگاپور کے ساتھ رابطے کو اہم قرار دیا۔ وزارت خارجہ کے بیان کے مطابق علاقائی اور عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے تنازعات کے حل اور پائیدار امن کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری کی اہمیت پر زور دیا۔

پاکستانی نائب وزیراعظم نے محدود سطح کی ملاقات میں فلسطین اور کشمیر سمیت علاقائی امور زیر بحث آنے کا بھی ذکر کیا۔ دوسری جانب سنگاپور کے وزیر خارجہ نے یاد دلایا کہ پاکستان ان ابتدائی ممالک میں شامل تھا جنہوں نے سنگاپور کی آزادی کے بعد اسے تسلیم کیا تھا۔ دونوں ممالک نے اسی تاریخی پس منظر کو مستقبل کے اقتصادی اور سفارتی تعاون کے لیے بنیاد بنانے پر اتفاق کیا۔

سنگاپور کے وزیر خارجہ کا دورہ پاکستان ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب دونوں ممالک سفارتی تعلقات کی چھ دہائیوں کی تکمیل منا رہے ہیں۔ دورے سے قبل پاکستانی وزارت خارجہ نے بتایا تھا کہ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی اور سنگاپور سول ڈیفنس فورس کے درمیان آفات سے نمٹنے کے شعبے میں تعاون کی یادداشت کے تبادلے کی بھی توقع ہے۔

مذاکرات میں کسی نئے بڑے تجارتی معاہدے، سرمایہ کاری کی مخصوص مالیت یا دوطرفہ تجارت کے عددی ہدف کا اعلان نہیں کیا گیا۔ موجودہ مرحلے پر پیش رفت کا مرکزی نکتہ ادارہ جاتی روابط بڑھانا، کاروباری تبادلوں کی حوصلہ افزائی کرنا اور اعلیٰ سطح سفارتی رابطے برقرار رکھنا ہے۔