اسلام آباد: چین پاکستان اقتصادی راہداری سے منسلک چینی کمپنیوں کی جانب سے ویزا پراسیسنگ اور اپنے اہلکاروں کی اندرون ملک نقل و حرکت میں تاخیر سے متعلق خدشات سامنے آنے کے بعد وفاقی حکومت سہولت کاری بہتر بنانے کے لیے متعدد تجاویز پر غور کر رہی ہے۔ ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق زیر غور اقدامات میں واپڈا کو چلاس ایئر اسٹرپ فعال کرنے اور کمپنیوں کے اعلیٰ عہدیداروں کی نقل و حرکت کے لیے ہیلی کاپٹرز کی خریداری کا عمل تیز کرنے کی ہدایت شامل ہو سکتی ہے۔
رپورٹ میں سرکاری ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا کہ چینی اداروں نے پاکستان میں داخلے اور ویزا میں توسیع دونوں مراحل میں تاخیر کی شکایات کی ہیں، حالانکہ چینی شہریوں کے لیے متعلقہ ویزا درخواستوں کی مقررہ پراسیسنگ مدت سات دن بتائی گئی ہے۔ حکومت نے پاکستان آن لائن ویزا سسٹم کے تحت طریقہ کار کو مختصر کیا ہے اور سکیورٹی تقاضوں کو برقرار رکھتے ہوئے پراسیسنگ کا معیاری وقت سات دن تک لایا گیا ہے۔ پہلے سکیورٹی کلیئرنس میں تقریباً چار سے چھ ہفتے لگ سکتے تھے۔
تاہم حکام کے مطابق ہر تاخیر انتظامی نظام کی وجہ سے نہیں ہوتی۔ بعض درخواستوں میں غلط ویزا کیٹیگری منتخب کرنے یا مطلوبہ دستاویزات مکمل نہ ہونے کے باعث درخواست واپس یا مسترد ہو سکتی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ چینی کمپنیوں کے بعض ملازمین مناسب ورک ویزا کے بجائے بزنس ویزا کے تحت درخواست دیتے ہیں، جس سے انہیں نئی درخواست جمع کرانے کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔
وزارت داخلہ و انسداد منشیات چینی سرمایہ کاروں اور کمپنیوں کو موجودہ معیاری طریقہ کار، مقررہ مدت اور ممکنہ اصلاحات سے متعلق بریفنگ دیتی ہے۔ چینی شہریوں، منصوبوں اور بنیادی ڈھانچے کے تحفظ کے لیے سکیورٹی ایس او پیز بھی نافذ ہیں، جنہیں متعلقہ اداروں، صوبائی حکومتوں اور چینی سفارت خانے سمیت مختلف فریقوں کی مشاورت سے مرتب اور تبدیل کیا جاتا ہے۔ وزارت داخلہ کے مطابق وہ ان ایس او پیز میں یکطرفہ تبدیلی نہیں کر سکتی۔
ملک بھر میں چینی شہریوں کی معلومات اور رابطہ کاری کے لیے وزارت داخلہ میں ایک مرکزی ڈیش بورڈ بھی قائم کیا گیا ہے، جس تک صوبائی اور ضلعی حکام کو رسائی دی گئی ہے تاکہ متعلقہ معلومات کی تصدیق اور تازہ کاری کی جا سکے۔ مجوزہ اصلاحات میں اسپانسر کرنے والی وزارتوں، سرکاری اداروں اور چینی کمپنیوں پر یہ ذمہ داری ڈالنے کی تجویز بھی شامل ہے کہ درخواست درست کیٹیگری میں مکمل دستاویزات کے ساتھ جمع ہو اور منصوبہ انتظامیہ سفر اور نقل و حرکت کے منصوبے سکیورٹی حکام کو بروقت فراہم کرے۔
رپورٹ میں زیر غور تجاویز کو حتمی حکومتی فیصلے کے طور پر پیش نہیں کیا گیا۔ ان کا مقصد سی پیک منصوبوں سے وابستہ اہلکاروں کے لیے انتظامی رکاوٹیں کم کرنا ہے جبکہ امیگریشن قوانین اور سکیورٹی تقاضوں کو برقرار رکھا جائے۔ چلاس ایئر اسٹرپ اور ہیلی کاپٹرز سے متعلق اقدامات بھی اسی مرحلے پر تجاویز ہیں اور ان کے عملی نفاذ کا انحصار متعلقہ اداروں کی منظوری اور کارروائی پر ہوگا۔

