اسلام آباد: وفاقی آئینی عدالت نے پنجاب کے ریونیو حکام کو اراضی کے اشتمال سے متعلق طویل عرصے سے زیرالتوا کارروائیاں تیزی سے مکمل کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ کئی دہائیوں تک جاری انتظامی تاخیر ملکیتی حقوق کو غیر یقینی بناتی اور مزید قانونی تنازعات کو جنم دیتی ہے۔
ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق چیف جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں ڈویژن بینچ نے ایسے اراضی معاملے میں حکم جاری کیا جس کی کارروائی 1979 میں شروع ہوئی تھی اور کئی دہائیوں تک انتظامی اور عدالتی مراحل میں پھنسی رہی۔ عدالت نے لاہور ہائیکورٹ کا متعلقہ فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے پنجاب کے ریونیو حکام، بالخصوص سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو، کو زیرالتوا اشتمالی کارروائیاں جلد مکمل کرانے کی ہدایت کی۔
چیف جسٹس کے تحریر کردہ تین صفحات پر مشتمل حکم میں عدالت نے قرار دیا کہ طویل انتظامی عدم فعالیت سے نہ صرف ملکیت اور قبضے کے بارے میں غیر یقینی برقرار رہتی ہے بلکہ فریقین کو مالی مشکلات اور متعدد مقدمات کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔ عدالت کے مطابق ریونیو حکام پر قانونی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے اختیارات مستعدی، انصاف اور بروقت انداز میں استعمال کریں تاکہ آئین کے آرٹیکل 23 کے تحت محفوظ جائیداد کے حقوق غیر ضروری تاخیر کے باعث بے معنی نہ ہوجائیں۔
عدالت نے ریکارڈ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 1979 میں شروع ہونے والی کارروائی کئی دہائیوں تک مسلسل انتظامی اور عدالتی مراحل میں الجھی رہی۔ حکم کے مطابق اتنی طویل قانونی کشمکش اشتمالِ اراضی کے بنیادی مقصد کو متاثر کرتی ہے، جس کا ہدف زمین کی ملکیت اور ہولڈنگز کو منظم کرنا اور ملکیتی حقوق کے بارے میں یقین پیدا کرنا ہے۔
وفاقی آئینی عدالت نے پنجاب کے متعلقہ محکموں کو ہدایت کی کہ اشتمال سے متعلق مقدمات اور کارروائیاں جہاں قانون میں مدت مقرر ہے وہاں اسی مدت کے اندر مکمل کی جائیں، اور جہاں واضح مدت موجود نہیں وہاں معقول وقت میں فیصلہ کیا جائے۔ عدالت نے غیر ضروری التوا اور انتظامی تاخیر سے بچنے کا بھی حکم دیا اور کہا کہ ناگزیر تاخیر کی صورت میں اس کی وجوہات ریکارڈ پر لائی جائیں۔
یہ فیصلہ کسی مخصوص زیرالتوا اراضی دعوے کے حقائق سے متعلق عدالتی کارروائی کے ساتھ ساتھ ریونیو انتظامیہ کے لیے عمومی طریقہ کار کی اہمیت بھی واضح کرتا ہے۔ عدالت نے اس بات پر زور دیا کہ سرکاری کارروائی کی طوالت شہریوں کے جائیداد سے متعلق حقوق اور قانونی یقین کو متاثر نہ کرے۔
پنجاب میں اراضی کے اشتمال اور ریونیو معاملات اکثر انتظامی ریکارڈ، ملکیت، قبضے اور اپیلوں کے متعدد مراحل سے گزرتے ہیں۔ عدالت کی ہدایات کا عملی اثر اس بات پر منحصر ہوگا کہ بورڈ آف ریونیو اور ماتحت حکام زیرالتوا کیسوں کی نگرانی، سماعتوں کے شیڈول اور فیصلوں کے لیے مقررہ یا معقول مدت کو کس طرح نافذ کرتے ہیں۔

