لاہور: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے کہا ہے کہ صوبے بھر میں فالج کے مریضوں کے فوری علاج کے لیے 40 پرائمری اسٹروک سینٹر فعال ہو چکے ہیں جبکہ مزید 15 مراکز تعمیر کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے لاہور میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی حکومت کے اسٹروک کیئر نیٹ ورک کی توسیع سے متعلق یہ تفصیلات بیان کیں۔
ریڈیو پاکستان کے مطابق وزیراعلیٰ نے کہا کہ حکومت بڑے شہروں میں زیادہ جامع اسٹروک مراکز قائم کرنے کی بھی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔ ان مراکز کے لیے راولپنڈی، ملتان اور فیصل آباد کا ذکر کیا گیا، جہاں جدید علاج اور ضرورت پڑنے پر جراحی مداخلت کی سہولت فراہم کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ پرائمری مراکز اور جامع مراکز کے درمیان فرق علاج کی سطح اور دستیاب طبی سہولتوں سے متعلق ہوگا، تاہم اعلان میں ہر مرکز کی مکمل تکنیکی تفصیلات نہیں دی گئیں۔
فالج کے علاج میں وقت بنیادی اہمیت رکھتا ہے، اس لیے مختلف اضلاع میں ابتدائی علاج کی سہولت دستیاب ہونے سے مریضوں کو بڑے شہروں تک منتقل کرنے سے پہلے فوری طبی جانچ اور ضروری علاج تک رسائی دینے کا مقصد سامنے آتا ہے۔ صوبائی حکومت نے ابھی فعال 40 مراکز کی مکمل فہرست یا زیر تعمیر 15 مراکز کی انفرادی تکمیل کی تاریخیں جاری نہیں کیں، اس لیے ان کی ضلعی تقسیم سے متعلق مزید سرکاری معلومات درکار ہوں گی۔
وزیراعلیٰ نے تقریب میں کینسر کے علاج سے متعلق منصوبوں کا بھی ذکر کیا۔ ان کے مطابق لاہور میں ایک ہزار بستروں پر مشتمل کینسر ہسپتال آئندہ چند ہفتوں میں فعال ہونے کی توقع ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ صوبائی ڈویژنل ہیڈکوارٹرز میں کینسر سینٹر قائم کیے جا رہے ہیں تاکہ تخصصی علاج کی سہولتوں کو لاہور تک محدود رکھنے کے بجائے دوسرے علاقوں تک بڑھایا جا سکے۔
حکومت کی جانب سے اسٹروک اور کینسر کے علاج کے نیٹ ورک میں توسیع کا اعلان صوبائی صحت کے بنیادی ڈھانچے میں تخصصی خدمات بڑھانے کی پالیسی کا حصہ ہے۔ تاہم ان منصوبوں کی عملی افادیت کا انحصار تربیت یافتہ طبی عملے، تشخیصی سہولتوں، ادویات، ایمبولینس اور ریفرل نظام، اور مسلسل بجٹ کی دستیابی پر ہوگا۔ سرکاری بیان میں انفرادی مراکز کے بجٹ یا مریضوں کی اب تک کی تعداد سے متعلق اعداد فراہم نہیں کیے گئے۔
تازہ اعلان میں تصدیق شدہ پیش رفت یہ ہے کہ صوبائی حکومت کے مطابق 40 پرائمری اسٹروک مراکز کام کر رہے ہیں اور 15 مزید زیر تعمیر ہیں۔ جامع اسٹروک مراکز اور کینسر سہولتوں کے آئندہ مراحل کے بارے میں مزید تفصیلات ان منصوبوں کی تکمیل اور باضابطہ افتتاح کے ساتھ سامنے آنے کی توقع ہے۔

