اسلام آباد: وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے سینیٹ کے ایک کشیدہ اجلاس میں دعویٰ کیا ہے کہ جمعیت علمائے اسلام ف کے رہنما ماضی میں حکومت سے خیبرپختونخوا میں گورنر راج نافذ کرنے کا مطالبہ کرتے رہے ہیں۔ ان کے اس بیان پر جے یو آئی ف کے ارکان نے شدید احتجاج کیا اور ایوان کے چیئر کو متعدد بار ارکان سے نظم برقرار رکھنے کی اپیل کرنا پڑی۔

نقوی نے پی ٹی آئی کے سینیٹرز کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ بیرسٹر علی ظفر ایوان میں موجود ہیں اور ان کے بقول جے یو آئی ف کے بعض رہنما پہلے حکومت کے پاس آ کر گورنر راج لگانے کی بات کرتے تھے۔ یہ وزیر داخلہ کا سیاسی دعویٰ ہے؛ رپورٹ میں کسی تحریری درخواست یا آزاد ثبوت کی تفصیل سامنے نہیں آئی، اس لیے اسے ثابت شدہ حقیقت کے بجائے ایوان میں دیا گیا بیان سمجھا جانا چاہیے۔

جے یو آئی ف کے سینیٹر کامران مرتضیٰ سمیت ارکان نے وزیر داخلہ کے ریمارکس پر احتجاج کیا۔ بحث کا پس منظر مولانا فضل الرحمان کے ایک روز قبل کیے گئے بیانات بھی تھے، جن میں ایران کے دورے اور علاقائی معاملات کا ذکر کیا گیا تھا۔ نقوی نے کہا کہ پاکستانی حکام کا ایران جانا کسی دفاعی معاہدے کے لیے نہیں تھا بلکہ جاری علاقائی بحران سے متعلق ذمہ داریوں کے سلسلے میں تھا۔

وزیر داخلہ نے جے یو آئی ف کی سیاست پر سخت تنقید بھی کی اور الزام لگایا کہ جماعت مذہب اور ریاستی تعلقات کو سیاسی مفادات کے مطابق استعمال کرتی ہے۔ یہ الزامات سیاسی نوعیت کے ہیں اور جے یو آئی ف کے احتجاج سے واضح ہے کہ جماعت انہیں قبول نہیں کرتی۔ خبر میں ان الزامات کو کسی عدالتی یا تحقیقاتی نتیجے کے طور پر پیش نہیں کیا جا رہا۔

سینیٹ میں یہ تلخ تبادلہ ایسے وقت ہوا جب حکومت اور مختلف اپوزیشن جماعتوں کے درمیان خیبرپختونخوا کی سیاسی و سکیورٹی صورتحال، پارلیمانی کردار اور علاقائی سفارت کاری پر اختلافات جاری ہیں۔ گورنر راج ایک آئینی اقدام ہے جس کے لیے مخصوص قانونی اور آئینی شرائط درکار ہوتی ہیں؛ ایوان میں کسی جماعت کی مبینہ سابقہ خواہش یا سیاسی گفتگو خود بخود ایسے اقدام کے نفاذ کے مترادف نہیں ہوتی۔