اسلام آباد: پاکستان کی چاول کی برآمدات نے رواں مالی سال کے آغاز میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا ہے اور ستمبر 2026 کے دوران ملک نے 4 لاکھ 20 ہزار ٹن چاول بیرون ملک بھیجے۔ ریڈیو پاکستان کی 3 نومبر کی رپورٹ کے مطابق اسی مہینے دنیا کے بڑے چاول برآمد کنندگان میں شامل ویتنام نے 3 لاکھ 37 ہزار ٹن چاول برآمد کیے، یوں پاکستان کا ماہانہ برآمدی حجم ویتنام سے زیادہ رہا۔

رپورٹ میں اس پیش رفت کو خلیجی خطے میں کشیدگی اور بین الاقوامی جہاز رانی کے راستوں میں خلل کے باوجود اہم قرار دیا گیا ہے۔ بحری نقل و حمل میں رکاوٹیں زرعی اجناس کی برآمدات کے لیے ترسیل کے اوقات، فریٹ لاگت اور خریداروں تک بروقت رسائی جیسے مسائل پیدا کر سکتی ہیں، تاہم دستیاب سرکاری اعداد کے مطابق پاکستانی چاول کی بیرونی ترسیل نے اس عرصے میں مضبوط رفتار برقرار رکھی۔

رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی کے دوران چاول کے برآمدی حجم میں مجموعی طور پر 51 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ یہ شرح صرف ایک ماہ کی کارکردگی تک محدود نہیں بلکہ جولائی سے ستمبر کے عرصے میں برآمدی مقدار میں وسیع اضافے کی نشاندہی کرتی ہے۔ ستمبر کے اعداد میں پاکستان کے 420 ہزار ٹن اور ویتنام کے 337 ہزار ٹن کے درمیان 83 ہزار ٹن کا فرق بنتا ہے۔

چاول پاکستان کی اہم زرعی برآمدات میں شامل ہے اور اس شعبے کی کارکردگی زرعی پیداوار، پروسیسنگ، بندرگاہی ترسیل اور برآمدی آمدن سے براہ راست جڑی ہوتی ہے۔ تاہم ایک ماہ میں کسی دوسرے بڑے برآمد کنندہ سے زیادہ مقدار بھیجنے کو مستقل عالمی درجہ بندی میں تبدیلی نہیں سمجھا جا سکتا؛ ریڈیو پاکستان کی رپورٹ کا دعویٰ خاص طور پر ستمبر کی ماہانہ برآمدی مقدار سے متعلق ہے۔

آئندہ مہینوں میں اس رفتار کے تسلسل کا انحصار عالمی طلب، فصل کی دستیابی، قیمتوں، شپنگ حالات اور برآمدی آرڈرز پر ہوگا۔ فی الحال دستیاب سرکاری اعداد رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں پاکستانی چاول کی برآمدی مقدار میں واضح توسیع دکھاتے ہیں۔