اسلام آباد: پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں سرمایہ کاروں کی مجموعی تعداد اکتوبر 2026 کے دوران ریکارڈ 6 لاکھ 81 ہزار 965 تک پہنچ گئی ہے۔ ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان کے مطابق وزیر خزانہ کے مشیر خرم شہزاد نے بتایا کہ صرف اکتوبر میں 25 ہزار 747 سرمایہ کاروں کا نیٹ اضافہ ہوا، جو گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 66 فیصد زیادہ ہے۔

خرم شہزاد کے فراہم کردہ اعداد کے مطابق جنوری سے اکتوبر 2026 کے دس ماہ میں مجموعی طور پر 2 لاکھ 18 ہزار 894 نیٹ نئے سرمایہ کار پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں شامل ہوئے۔ ان کے مطابق یہ تعداد 2022 سے 2025 تک چار مکمل کیلنڈر برسوں میں شامل ہونے والے سرمایہ کاروں کی مجموعی تعداد سے بھی زیادہ ہے۔

مشیر خزانہ نے کہا کہ جون 2022 سے اب تک 4 لاکھ 6 ہزار 995 نیٹ نئے سرمایہ کار شامل ہوئے ہیں۔ اس عرصے کے آغاز میں سرمایہ کار بیس 2 لاکھ 74 ہزار 970 تھا، جس کے مقابلے میں موجودہ سطح تک اضافہ 148 فیصد بنتا ہے۔ جنوری تا اکتوبر 2026 کے اعداد کے مطابق مجموعی سرمایہ کار بیس سال بہ سال بنیاد پر 56 فیصد بڑھا ہے۔

ان کے مطابق نئے سرمایہ کاروں میں تقریباً 85 فیصد کا تعلق جنریشن زی اور ملینیئلز سے ہے۔ حکومت اس رجحان کو نوجوانوں کی کیپیٹل مارکیٹ میں بڑھتی شرکت اور مالی شمولیت میں اضافے کے طور پر پیش کر رہی ہے۔ تاہم سرمایہ کاروں کی تعداد میں اضافہ بذات خود مستقبل کی مارکیٹ کارکردگی یا منافع کی ضمانت نہیں ہوتا، کیونکہ حصص کی قیمتیں معاشی حالات، کمپنیوں کی کارکردگی اور مارکیٹ کے خطرات سے متاثر ہوتی ہیں۔

سرکاری مؤقف کے مطابق سرمایہ کار بیس میں توسیع سے گھریلو بچت کو رسمی سرمایہ کاری کے ذرائع کی طرف منتقل کرنے اور مقامی کیپیٹل مارکیٹ کو گہرا کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ اکتوبر کا ماہانہ اضافہ اس لحاظ سے نمایاں ہے کہ حکام نے اسے پی ایس ایکس کی تاریخ کا سب سے بڑا ماہانہ اضافہ قرار دیا ہے۔