اسلام آباد: وفاقی حکومت نے عالمی منڈی اور خطے کی غیر معمولی صورتحال کے باعث پٹرول کی قیمت میں متوقع اضافے کا پورا بوجھ صارفین پر منتقل کرنے کے بجائے مقامی آئل ریفائنریز کے حالیہ غیر معمولی منافع کا ایک حصہ عارضی طور پر استعمال کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزیرِ پیٹرولیم علی پرویز ملک نے نیوز کانفرنس میں کہا کہ اس انتظام کے تحت ریفائنریز تقریباً 15 ارب روپے ماہانہ کا بوجھ برداشت کریں گی اور یہ بندوبست 30 روز کے لیے ہوگا۔

وزیرِ پیٹرولیم کے مطابق گزشتہ جمعے پٹرول کی قیمت میں تقریباً 15 روپے فی لیٹر اضافے کا امکان تھا، تاہم حکومت نے ریفائنریز سے مشاورت کے بعد ایسا طریقہ اختیار کیا جس سے یہ اضافہ صارفین تک منتقل نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ مہینوں میں ریفائنریز کو زیادہ تھروپٹ اور خام تیل کی فراہمی میں حکومتی معاونت کے باعث غیر معمولی منافع ہوا، اس لیے ان سے موجودہ مشکل صورتحال میں عوامی ریلیف کے لیے تعاون کی درخواست کی گئی۔

حکومت کا مؤقف ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کی جنگی صورتحال نے خام تیل، انشورنس اور فریٹ کی لاگت بڑھا دی ہے، جس کے اثرات پاکستان سمیت درآمدی ایندھن پر انحصار کرنے والی معیشتوں پر پڑ رہے ہیں۔ وزیرِ اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے اسی پریس کانفرنس میں کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ بیرونی قیمتوں کے جھٹکے کا کم سے کم حصہ عوام تک پہنچے۔ حکام نے یہ بھی کہا کہ ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کے ذخائر موجود ہیں اور فوری قلت کے خدشات درست نہیں۔

علی پرویز ملک نے واضح کیا کہ حکومت طویل مدت میں مسابقت اور ڈی ریگولیشن کی پالیسی کی حامی ہے، لیکن موجودہ علاقائی بحران میں عارضی مداخلت ضروری سمجھی گئی۔ ان کے مطابق حالات معمول پر آنے کے بعد حکومت دوبارہ ڈی ریگولیشن اور ریفائنری اپ گریڈ منصوبوں کو آگے بڑھانے کی کوشش کرے گی۔ اس اقدام کا عملی اثر آئندہ قیمتوں، عالمی خام تیل کی لاگت اور علاقائی کشیدگی کے دورانیے سے جڑا رہے گا۔