خیبرپختونخوا میں ربیع فصلوں کی بوائی کے دوران کھاد کی محدود دستیابی پر زرعی اور صنعتی حلقوں نے تشویش ظاہر کی ہے۔ ڈان کے مطابق چشمہ شوگر ملز نے گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کو خط لکھ کر بتایا ہے کہ کھاد کی ترسیل پر عائد پابندیوں کے باعث صوبے میں کسانوں کو ضروری زرعی مداخل کے حصول میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔

مل کے سینئر ڈائریکٹر اسکندر خان کے خط میں کہا گیا کہ فیلڈ سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق وزارت داخلہ کے ایک ایس آر او کے تحت کھاد بنانے والی کمپنیوں نے خیبرپختونخوا اور بلوچستان کو بعض کھادوں کی ترسیل محدود کر دی ہے۔ پابندیوں کا پس منظر سکیورٹی خدشات ہیں کیونکہ کھاد کی بعض اقسام میں استعمال ہونے والے کیمیائی اجزا دھماکا خیز مواد کی تیاری میں بھی غلط استعمال ہو سکتے ہیں۔ حکام کو خدشہ ہے کہ یہ مواد غیر قانونی عناصر تک پہنچ سکتا ہے۔

تاہم زرعی شعبے کے لیے پابندی کا وقت حساس ہے۔ خزاں اور ربیع کی بوائی جاری ہے اور گندم سمیت اہم فصلوں کے لیے بروقت کھاد کی دستیابی پیداوار پر براہ راست اثر ڈالتی ہے۔ خط میں خبردار کیا گیا کہ رسد میں تاخیر یا کمی سے فصلوں کی صحت اور پیداوار متاثر ہو سکتی ہے، کسانوں کے مالی اخراجات بڑھ سکتے ہیں اور صوبے میں غذائی تحفظ کے مسائل مزید پیچیدہ ہو سکتے ہیں۔

چشمہ شوگر ملز نے یہ مؤقف بھی اختیار کیا کہ کھاد کی کمی کا اثر صرف اناج تک محدود نہیں رہے گا بلکہ گنے کی پیداوار اور شوگر ملوں کو خام مال کی فراہمی بھی متاثر ہو سکتی ہے۔ گنے کی فصل میں کھاد کے استعمال کا وقت اہم ہوتا ہے اور زرعی مداخل کی کمی کا اثر بعد میں فی ایکڑ پیداوار اور مجموعی سپلائی پر ظاہر ہو سکتا ہے۔

یہ معاملہ حکومت کے لیے سکیورٹی اور زرعی ضروریات کے درمیان توازن کا امتحان ہے۔ ایک طرف حساس کیمیائی مواد کے ممکنہ غلط استعمال کو روکنے کے لیے ترسیل کی نگرانی ضروری سمجھی جاتی ہے، دوسری طرف وسیع پابندیاں قانونی زرعی صارفین کو متاثر کر سکتی ہیں۔ ممکنہ حل میں رجسٹرڈ ڈیلروں اور تصدیق شدہ کسانوں کے لیے ٹریکنگ پر مبنی سپلائی، ضلع وار کوٹہ، ڈیجیٹل ریکارڈ اور نگرانی کے سخت نظام شامل ہو سکتے ہیں، تاہم ایسی کسی نئی پالیسی کا اعلان ابھی رپورٹ میں نہیں کیا گیا۔

فی الحال چشمہ شوگر ملز کی شکایت اور فیلڈ رپورٹس کھاد کی دستیابی کے مسئلے کی نشاندہی کرتی ہیں، لیکن صوبہ بھر میں قلت کی مکمل مقدار یا فصلوں کو ہونے والے حتمی نقصان کے اعداد ابھی دستیاب نہیں۔ آنے والے ہفتوں میں ربیع بوائی کی پیش رفت اور سرکاری رسد کے انتظام سے واضح ہوگا کہ پابندیوں کا زرعی پیداوار پر حقیقی اثر کتنا وسیع رہتا ہے۔