پاکستان کا نجی شعبہ مالی سال 2026-27 میں پہلی بار بینکوں سے قرض کی خالص واپسی کے بجائے خالص قرض لینے کی پوزیشن میں آ گیا ہے۔ اسٹیٹ بینک کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق یکم جولائی سے 23 اکتوبر تک نجی شعبے نے مجموعی طور پر 87 ارب روپے کا خالص قرض حاصل کیا، جبکہ گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں 29 ارب روپے کی خالص قرض واپسی ریکارڈ کی گئی تھی۔
یہ تبدیلی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب وفاقی حکومت بینکوں پر زور دے رہی ہے کہ وہ زرعی شعبے، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں اور رہائشی قرض پروگراموں کے لیے زیادہ سرمایہ فراہم کریں۔ وزیراعظم شہباز شریف نے بھی وزارت خزانہ اور اسٹیٹ بینک کو ہدایت کی ہے کہ ترجیحی شعبوں کو قرض دینے میں تاخیر کرنے والے بینکوں کے معاملات پر توجہ دی جائے۔
اسٹیٹ بینک کے اعداد کی تفصیل بتاتی ہے کہ قرض میں مجموعی اضافہ تمام بینکاری شعبوں میں یکساں نہیں رہا۔ روایتی بینکوں میں تقریباً 32 کروڑ روپے کی معمولی خالص قرض واپسی ہوئی، جبکہ گزشتہ سال اسی مدت میں 117 ارب روپے واپس کیے گئے تھے۔ اسلامی بینکوں نے تقریباً 63 ارب روپے کی خالص قرض واپسی ریکارڈ کی، جو گزشتہ سال کے 25 ارب روپے سے زیادہ ہے۔ رپورٹ کے مطابق اصل مثبت قرض فراہمی روایتی بینکوں کی اسلامی شاخوں کی جانب سے سامنے آئی۔
نجی شعبے کی قرض طلب اب بھی بلند شرح سود اور غیر یقینی معاشی ماحول سے متاثر ہے۔ اسٹیٹ بینک نے گزشتہ ہفتے پالیسی شرح میں 50 بیسس پوائنٹس اضافہ کرکے اسے 12 فیصد کر دیا تھا۔ بلند قرض لاگت کاروباری اداروں کے لیے نئی سرمایہ کاری، مشینری، ورکنگ کیپیٹل اور توسیعی منصوبوں کے فیصلوں کو مہنگا بناتی ہے۔ بینکاروں اور تجزیہ کاروں کے مطابق سیاسی اور سکیورٹی غیر یقینی، خصوصاً دو صوبوں میں دہشت گردی کے خطرات، اور خطے میں ممکنہ جنگ کا خدشہ بھی سرمایہ کاری کے فیصلوں پر اثر انداز ہو رہا ہے۔
خالص 87 ارب روپے کی قرض گیری گزشتہ سال کے مقابلے میں سمت کی تبدیلی ضرور ہے، لیکن اسے فوری طور پر مضبوط نجی سرمایہ کاری کی بحالی نہیں سمجھا جا سکتا۔ پاکستان کی بڑی معیشت کے حجم کے مقابلے میں یہ رقم محدود ہے اور قرض کے مختلف بینکاری حصوں میں تفاوت برقرار ہے۔ مزید یہ کہ شرح سود میں حالیہ اضافہ آنے والے مہینوں میں قرض کی رفتار کو دوبارہ سست کر سکتا ہے۔
حکومت کا ہدف ہے کہ بینکاری نظام سے حقیقی معیشت کو زیادہ سرمایہ ملے تاکہ پیداوار، برآمدات اور روزگار میں اضافہ ہو۔ اس مقصد کی کامیابی کے لیے صرف قرض کا حجم نہیں بلکہ قرض لینے والے شعبوں، سرمایہ کاری کے استعمال، ڈیفالٹ کے خطرے اور معاشی سرگرمی میں حقیقی اضافے کو بھی دیکھنا ہوگا۔ آئندہ اسٹیٹ بینک کے ہفتہ وار اور ماہانہ اعداد واضح کریں گے کہ موجودہ تبدیلی مستقل رجحان بنتی ہے یا بلند شرح سود کے ماحول میں عارضی اتار چڑھاؤ ثابت ہوتی ہے۔
