راولپنڈی: پاکستان آرمی نے روس اور عمان کی افواج کے ساتھ دو الگ مشترکہ فوجی مشقیں شروع کر دی ہیں جن کا مرکز انسدادِ دہشت گردی کی تربیت، عملی تجربات کا تبادلہ اور باہمی آپریشنل ہم آہنگی بہتر بنانا ہے۔ انٹر سروسز پبلک ریلیشنز کے مطابق پاکستان-روس مشترکہ مشق دروزبہ IX کا نواں ایڈیشن چیراٹ میں جبکہ پاکستان-عمان مشترکہ مشق وشاق الجبل II، جسے ماؤنٹین لنکس II بھی کہا جاتا ہے، نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم سینٹر پبی میں شروع ہوا۔

دونوں مشقیں تقریباً دو ہفتوں پر محیط ہوں گی۔ ان میں پاکستان آرمی کے دستوں کے ساتھ روسی فوج اور رائل آرمی آف عمان کے متعلقہ دستے حصہ لے رہے ہیں۔ آئی ایس پی آر کے مطابق تربیتی سرگرمیوں کا مقصد شریک افواج کو انسداد دہشت گردی سے متعلق عملی طریقہ کار، ڈرلز اور حربی تجربات کا باہمی تبادلہ کرنے کا موقع دینا ہے۔ اس کے ساتھ انٹرآپریبلٹی، یعنی مختلف افواج کی مشترکہ ماحول میں مربوط انداز سے کام کرنے کی صلاحیت، بہتر بنانے پر بھی توجہ دی جائے گی۔

سرکاری بیان میں کہا گیا کہ مشترکہ تربیت کے دوران بہترین عملی طریقوں کے تبادلے، میدان میں استعمال ہونے والی تکنیکوں اور مختلف آپریشنل حالات میں ردعمل کی مشق کی جائے گی۔ اس عمل سے شریک دستوں کی جنگی مہارت اور ٹیکٹیکل صلاحیتوں میں بہتری کی توقع کی جا رہی ہے۔ بیان میں کسی مخصوص جاری آپریشن یا حقیقی ہدف کو ان مشقوں سے منسلک نہیں کیا گیا، اس لیے انہیں طے شدہ تربیتی اور دفاعی تعاون کی سرگرمی کے طور پر ہی دیکھا جانا چاہیے۔

دروزبہ پاکستان اور روس کے درمیان باقاعدگی سے ہونے والی مشترکہ فوجی مشقوں کا سلسلہ ہے۔ 2025 میں اس کا آٹھواں ایڈیشن انسداد دہشت گردی کے شعبے میں منعقد ہوا تھا۔ موجودہ نواں ایڈیشن اسی تعاون کے تسلسل میں ہے۔ دوسری جانب وشاق الجبل II پاکستان اور عمان کے درمیان اس مشق کا دوسرا ایڈیشن ہے، جس میں پہاڑی اور انسداد دہشت گردی ماحول سے متعلق مشترکہ پیشہ ورانہ تربیت کو اہمیت دی جا رہی ہے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق دونوں مشقوں کا ایک وسیع مقصد پاکستان کے روس اور عمان کے ساتھ دفاعی و فوجی روابط کو مزید مضبوط کرنا بھی ہے۔ چیراٹ اور پبی میں ہونے والی سرگرمیاں الگ مقامات اور الگ شراکت دار افواج کے ساتھ جاری ہیں، تاہم دونوں کا دورانیہ اور بنیادی تربیتی توجہ ایک دوسرے سے ملتی جلتی ہے۔