پاکستان اور سعودی عرب نے دونوں ملکوں کے سفارتی، سرکاری اور خصوصی پاسپورٹ رکھنے والے شہریوں کے لیے ویزا کی شرط ختم کرنے کے ایک معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔ یہ پیش رفت 22 ستمبر 2026 کو نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے موقع پر سامنے آئی، جہاں پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے معاہدے پر دستخط کیے۔
پاکستانی حکام کے مطابق اس انتظام کے تحت متعلقہ سرکاری پاسپورٹ رکھنے والے پاکستانی شہری سعودی عرب کے سرکاری دوروں کے لیے پیشگی ویزا حاصل کیے بغیر سفر کر سکیں گے، جبکہ معاہدہ باہمی نوعیت کا ہے اور سعودی عرب کے اہل پاسپورٹ ہولڈرز پر بھی لاگو ہوگا۔ اسحاق ڈار نے معاہدے کو دونوں ملکوں کے درمیان اعلیٰ سطحی رابطوں اور سرکاری اداروں کے باہمی تبادلوں میں سہولت دینے والا قدم قرار دیا۔
یہ معاہدہ ایسے وقت ہوا ہے جب پاکستان اور سعودی عرب حالیہ مہینوں میں اقتصادی، سیاسی اور سکیورٹی تعاون کو مزید ادارہ جاتی شکل دینے کے لیے متعدد سطحوں پر رابطے بڑھا رہے ہیں۔ دونوں حکومتیں سرمایہ کاری، تجارت، توانائی، انفراسٹرکچر، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور دفاعی تعاون سمیت مختلف شعبوں میں شراکت کو وسعت دینے کی بات کرتی رہی ہیں۔ ویزا معافی کا موجودہ انتظام عام سیاحتی یا کاروباری پاسپورٹ رکھنے والے تمام شہریوں کے لیے عمومی ویزا فری سفر کا اعلان نہیں ہے، بلکہ اس کا دائرہ سفارتی اور مخصوص سرکاری پاسپورٹس تک محدود ہے۔
معاہدہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اعلیٰ سطحی ہفتے کے دوران طے پایا، جہاں پاکستانی وفد متعدد دوطرفہ ملاقاتیں بھی کر رہا ہے۔ اس موقع پر اسلام آباد اور ریاض کی جانب سے سرکاری سطح کے رابطوں کو تیز اور انتظامی رکاوٹوں کو کم کرنے پر زور دیا گیا۔ معاہدے کے نفاذ سے دونوں ملکوں کے وزارتی وفود، سفارتی اہلکاروں اور دیگر اہل سرکاری نمائندوں کی آمدورفت نسبتاً آسان ہونے کی توقع ہے۔
پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات میں لاکھوں پاکستانی کارکنوں کی سعودی عرب میں موجودگی، توانائی کی تجارت، مالی تعاون اور مذہبی روابط بھی اہم حیثیت رکھتے ہیں۔ تاہم موجودہ معاہدے کی عملی تفصیلات، نفاذ کی تاریخ اور قیام کی مدت سے متعلق شرائط متعلقہ حکومتی ہدایات اور دستاویزات کے مطابق نافذ ہوں گی۔ مسافروں کو سفر سے قبل اپنے پاسپورٹ کی اہلیت اور تازہ سرکاری تقاضوں کی تصدیق کرنا ہوگی۔
