پاکستان اور سعودی عرب نے سفارتی، سرکاری اور خصوصی پاسپورٹ رکھنے والے افراد کے لیے باہمی ویزا شرائط ختم کرنے کے ایک معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔ یہ معاہدہ نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے موقع پر طے پایا، جہاں پاکستان کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان آل سعود نے اپنے اپنے ملک کی جانب سے دستاویز پر دستخط کیے۔

سرکاری خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان کے مطابق اسحاق ڈار نے کہا کہ یہ اقدام دونوں ملکوں کے درمیان اعلیٰ سطحی رابطوں اور ادارہ جاتی تبادلوں میں مزید سہولت پیدا کرے گا۔ ان کے مطابق معاہدہ پاکستان اور سعودی عرب کے دیرینہ اور برادرانہ تزویراتی تعلقات کو باہمی دلچسپی کے مختلف شعبوں میں آگے بڑھانے میں مدد دے گا۔ ویزا استثنیٰ عام پاسپورٹ رکھنے والے تمام شہریوں کے لیے نہیں بلکہ معاہدے میں بیان کردہ سفارتی، سرکاری اور خصوصی پاسپورٹس کے حامل افراد کے لیے ہے۔

اسی موقع پر دونوں وزرائے خارجہ نے دوطرفہ تعلقات اور علاقائی امور پر بھی بات چیت کی۔ سرکاری بیانات کے مطابق فریقین نے پاکستان اور سعودی عرب کے گہرے تعلقات کا اعادہ کیا اور مسلسل اعلیٰ سطحی تبادلوں اور باہمی دلچسپی کے علاقائی معاملات پر قریبی رابطہ برقرار رکھنے کی اہمیت پر زور دیا۔ ملاقات میں مکہ جوائنٹ ڈیفنس ایگریمنٹ سے متعلق امور بھی زیر بحث آئے اور دونوں جانب سے تعاون بڑھانے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔

اسحاق ڈار نے حالیہ حملوں کے تناظر میں سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی یکجہتی کا اظہار بھی کیا۔ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان سیاسی، دفاعی، معاشی اور افرادی روابط کئی دہائیوں پر محیط ہیں، جبکہ دونوں ملک اعلیٰ سطحی وفود کے تبادلوں اور مختلف اداروں کے درمیان تعاون کو باقاعدگی سے وسعت دیتے رہے ہیں۔ نئے ویزا معاہدے کا عملی دائرہ کار متعلقہ سرکاری طریقہ کار اور معاہدے کی شرائط کے مطابق ہوگا۔

یہ پیش رفت ایسے وقت ہوئی ہے جب پاکستانی قیادت اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے لیے نیویارک میں موجود ہے اور مختلف ملکوں کے نمائندوں کے ساتھ دوطرفہ ملاقاتیں جاری ہیں۔ معاہدے کے اعلان میں کسی عام شہری ویزا پالیسی میں تبدیلی کا ذکر نہیں کیا گیا، اس لیے اس اقدام کو صرف متعین سرکاری اور سفارتی پاسپورٹ زمروں تک محدود سمجھا جائے گا۔