پاکستان اور سعودی عرب نے دونوں ملکوں کے سفارتی اور سرکاری یا خصوصی پاسپورٹ رکھنے والے شہریوں کے لیے ویزا کی شرط ختم کرنے کے معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں۔ یہ پیش رفت نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے موقع پر ہوئی، جہاں پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور ان کے سعودی ہم منصب نے معاہدے پر دستخط کیے۔
رپورٹس کے مطابق اس انتظام کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان سرکاری سفر کو آسان بنانا اور ادارہ جاتی و اعلیٰ سطح کے رابطوں میں سہولت پیدا کرنا ہے۔ معاہدہ عام پاسپورٹ رکھنے والے تمام مسافروں کے لیے عمومی ویزا فری سفر کا اعلان نہیں ہے بلکہ اس کا دائرہ سفارتی، سرکاری یا خصوصی پاسپورٹ رکھنے والے اہل افراد تک محدود بتایا گیا ہے۔
پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دیرینہ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعلقات ہیں اور دونوں ممالک کے حکام مختلف دوطرفہ اور کثیرالجہتی فورمز پر باقاعدگی سے رابطے میں رہتے ہیں۔ نیویارک میں ہونے والی یہ پیش رفت بھی اسی سفارتی سرگرمی کا حصہ ہے جو جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران جاری ہے۔
پاکستانی حکام کے مطابق ویزا تقاضے ختم ہونے سے اعلیٰ سطح کے وفود اور سرکاری اہلکاروں کے دوروں میں انتظامی رکاوٹیں کم ہوں گی اور باہمی رابطوں کو مزید سہولت ملے گی۔ تاہم معاہدے کے عملی نفاذ، داخلے کی مدت اور دیگر انتظامی تفصیلات متعلقہ حکومتوں کے قواعد اور باضابطہ طریقہ کار کے مطابق ہوں گی۔
اس پیش رفت کی خبر متعدد پاکستانی نیوز اداروں نے دی ہے۔ دستیاب معلومات کے مطابق معاہدہ 22 ستمبر 2026 کو رپورٹ ہوا اور دستخط اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر نیویارک میں کیے گئے۔
